خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 227
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲۷ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء قرآن کریم کے معانی بتائے گا۔ان نئے معانی کا سیکھنا حقیقتا تو عربی زبان ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے کیونکہ عربی زبان ہی اس کی متحمل ہوسکتی ہے۔اس کے بعد طفیلی طور پر ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو کا جس رنگ میں استعمال کیا ہے وہ بھی بڑا قادرانہ استعمال ہے۔اس کے ذریعہ بھی بہت سارے اسرار ورموز قرآنیہ انسان پر کھل سکتے ہیں اور کھلتے رہے ہیں۔یہ ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے لیکن یہ تو ایک طفیلی چیز ہے۔اصل عربی ہے۔اس لئے متن کو تو ہم نے بہر حال قائم رکھنا ہے لیکن متن سے اُنس اور پیار کو قائم کرنے کے لئے اور قرآن کریم سے ایک لگاؤ اور الفت پیدا کرنے کے لئے یہ بات اشد ضروری ہے کہ ہم ہر انسان کے سامنے متن بھی رکھیں کیونکہ اس کے دل میں ایک وقت میں یہ خواہش پیدا ہو سکتی ہے اور پیدا ہو جاتی ہے کہ اسے ترجمہ کے علاوہ عربی سیکھنی چاہیے۔مجھے اس کا ذاتی طور پر علم ہے کیونکہ بہت سے دوست مجھے خط لکھتے ہیں کہ ان پر ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے سمجھا تراجم اور تفسیری نوٹوں سے تو ان کی سیری نہیں ہوتی اس لئے انہیں اپنی سیری کے لئے عربی زبان سیکھ کر عربی متن پر غور کرنا چاہیے۔غرض ہر گھر میں قرآنِ کریم پہنچانا ایک بہت بڑا کام ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ہر فرد واحد کے ہاتھ میں اس کی اپنی زبان میں قرآنِ کریم پہنچانا اس سے بھی بڑا کام ہے کیونکہ گھر کے مکین ایک وقت میں دو میاں بیوی اور بچے بھی ہوتے ہیں۔الا مَا شَاء الله بعض گھروں میں بچے نہیں ہوتے۔عموماً ہر گھر میں چار پانچ بچے ہوتے ہیں یہ اور بات ہے کہ کسی کہ ہاں ہالہ کے ہالہ بچے ہوتے ہیں۔(ہالہ بنگالیوں کی اصطلاح ہے۔ایک ہالہ میں چار بچے ہوتے ہیں ) گو کشمیریوں کے ہاں بھی بہت بچے ہوتے ہیں تاہم بنگالی اس میں مشہور ہیں وہ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے گھر میں اتنے بچے ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اتنے ہالہ بچے ہیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ صرف چار ہالہ بچے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے سولہ بچے ہیں۔گویا ہر گھر میں بچوں کی تعداد کم و بیش ہوتی ہے۔تاہم بڑے بچوں کے لئے بھی ہر گھر میں قرآن کریم پہنچانا ہے۔تم اگر یہ سوچو اور گھبرا ؤ اور کہو کہ ہمارے اوپر ذمہ داری نہیں ہے۔تو تمہاری مرضی۔لیکن اگر تمہارے دل میں صدق اور صفا اور وفا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو مانتے اور اس کی بشارتوں پر ایمان لاتے ہوتو تمہیں یہ بات تسلیم کرنی