خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 204
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۰۴ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء نے اپنی نسلوں میں اپنے بڑوں میں اپنے چھوٹوں میں اپنے مردوں میں اپنی عورتوں میں پیدا کرنا ہے۔جو ایمان بالغیب کا ایک لازمہ ہے کہ خدا نے جو یہ وعدہ دیا کہ اس چھوٹی سی مختصر سی بے سہارا غریب جماعت کے ذریعہ اسے آلہ کار بنا کر میں ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں یہ اس نے بشارت دی ہے اور ہمیں کہا کہ ایمان بالغیب لا ؤ۔کچھ وعدے پورے ہو گئے جو وعدے تمہیں دیئے جا رہے ہیں اور آئندہ پورے ہونے والے ہیں یقین رکھو کہ وہ بھی پورے ہوں گے اور اس میں بد عہدی نہیں ہوگی۔خدا تعالیٰ وفا کرنے والا ہے وفا کرے گا وہ صادق ہے وہ حق ہے اور اس کا قول حق ہے یعنی اس کے کہنے کے ساتھ ہی دنیا میں ایک عظیم تبدیلی اس کے ارادہ کے مطابق پیدا ہو جانی ہے پس اس پر ایمان رکھو۔تمہارے ذریعہ سے اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا اور اس لئے چونکہ یہ غیب پر ایمان لانے کا سوال ہے اس لئے تمہیں جہاں عظیم قربانیاں دینی پڑیں گی وہاں بہت بڑا ثواب بھی ملے گا اور عظیم سرور اور لذت تمہارے مقدر میں ہوگی۔خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں تم داخل ہو گے۔پس ایمان بالغیب قربانیاں دینے کی راہوں کو آسان کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بڑا باعث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس رنگ میں ہمارے دلوں میں انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی طور پر بھی ایمان بالغیب کو پیدا کرے جس رنگ میں وہ امید رکھتا ہے کہ اس سے پیار کرنے والے بندے اپنے دلوں میں ایمان بالغیب رکھیں گے۔ایمان بالغیب جس پر بے شمار یقین قربان ہو جاتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار کی نشاندہی بھی کرتا ہے اس کی علامت بھی ٹھہرتا ہے اور حصولِ رضائے الہی کا ذریعہ بھی بنتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور ہماری نسل کو بھی ہم میں سے بڑوں ، چھوٹوں، مردوں اور عورتوں کو اس کی توفیق دے ایمان بالغیب بھی ہو اور اس غیب پر یقین محکم بھی۔اللہ تعالیٰ کی اس بشارت کو صحیح سمجھیں کہ اس چھوٹی سی جماعت کے ذریعہ سے غلبہ اسلام کی مہم کو کا میاب کیا جائے گا اور پھر جو عظیم فضل اور رحمتیں اس کے نتیجہ میں ہم سے وعدہ کی گئی ہیں وہ ہمیں ملیں گی۔اس یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانیاں دینے کی توفیق دیتا چلا جائے۔