خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 203

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء اتنا سرور اور لذت پیدا کرنے والا ملا کہ اس تجربہ کے بعد اب ایمان بالغیب کے نتیجہ میں جو قربانیاں مانگی جارہی ہیں ان کا جو ثواب اور ان کے نتیجہ میں جو لذت وسرور ملے گا (چونکہ قربانیوں کا مطالبہ پہلے سے بڑھ کر ہے ) وہ ثواب اور وہ لذت اور سرور پہلے سے بڑھ کر ہوگا۔عقل یہی نتیجہ نکالتی ہے پس علم اور ایمان میں یہ فرق ہوا کہ علم اس چیز کا ہوتا ہے جو ظاہر اور عیاں ہو جائے اس سے پہلے پہلے علم کے میدان میں تحقیق ہوتی ہے اور تحقیق کے نتیجہ میں جو دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جائے وہ مجموعی طور پر انسانی علم کا ایک حصہ بن جاتا ہے اور ایمان کے لئے بنیادی شرط ہے کہ کچھ پوشیدہ باتوں کو ایمان بالغیب کے طور پر یقینی طور پر تسلیم کیا جائے۔جہاں تک قرائن اور دلائل کا سوال ہے قرائن مرتجہ ہیں لیکن جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے معلومات ظاہرہ کی نسبت زیادہ یقین غائب کی باتوں پر ہے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو گیا اور جب اس کو پہچا نا جب اس کے پیار کے جلوے دیکھے جب اس کی معرفت حاصل کی تو پھر غیب کے با وجود یقین محکم پیدا کرنے کا ذریعہ علم کے مقابلہ میں ایمان بالغیب زیادہ ہے اور آج جماعت احمد یہ سے غلبہ اسلام کے لئے جوقربانیاں مانگی جارہی ہیں وہ بڑی عظیم ہیں لیکن اس کا بدلہ بھی عظیم اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا سرور اور لذت بھی عظیم ہے۔ہم ایک چھوٹی سی جماعت، ہم ایک غریب کسی جماعت ، ہم دنیاوی معیار کے مطابق بے سہارا سی جماعت ہیں۔ہمارے پاس سیاسی اقتدار نہیں۔ہمارے پاس کوئی دنیاوی و مادی طاقت نہیں غرض کچھ بھی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایمان بالغیب کے حکم کے ماتحت ہماری توجہ اس طرف پھیری اور ہمیں توفیق دی کہ ہم اس بات پر یقین کامل رکھیں کہ یہ غیب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعہ سے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جو لذت اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے نتیجہ میں ہمیں مل سکتی ہے اور جو سرور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نوع انسانی کے دلوں میں گاڑ دینے کے نتیجہ میں ہمیں حاصل ہوسکتا ہے اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی لذت نہیں اور پھر ثواب اللہ تعالیٰ کے پیار کی شکل میں ملے گا۔یہ دنیا کیا اگر اس قسم کی ہزاروں دنیا بھی ہمیں دی جائیں تو ہم ان سب کو خدا تعالیٰ کے پیار پر قربان کر دیں گے یہ یقین ہم