خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 202

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۰۲ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۳ء تھی اصل غرض تو یہ تھی کہ ہر وہ زبان خاموش کر دی جائے گی اور ہر وہ قلم توڑ دی جائے گی جو اسلام کے خلاف اس قسم کے ظالمانہ اور بہیمانہ طریقے پر اٹھے گی۔پس ایک بشارتیں وہ ہیں جو بہت جلد یا تھوڑے سے عرصہ میں پوری ہوتی ہیں اور ایک وہ بشارتیں ہیں جن کا تعلق اگلی صدی سے ہے یا جن کا تعلق تدریجی طور پر دنیا میں ایک انقلاب بپا کرنے سے ہے۔وہ غیب ہیں لیکن جو قرائن اس غیب پر ایک منتقی کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ہیں وہ یہ قرائن ہیں کہ وہ باتیں جو صبح کہی گئیں اور دو پہر کو پوری ہو گئیں اور وہ باتیں جو آج کہی گئیں اور کل پوری ہو گئیں اور وہ باتیں جو اس سال کہی گئیں اور اگلے چند سالوں میں پوری ہو گئیں اس لئے وہ بشارتیں جن کا تعلق مستقبل بعید یا نسبتا مستقبل بعید سے ہے وہ بھی چونکہ اسی منبع کی طرف منسوب ہوتی ہیں جس کی طرف جلد پوری ہونے والی بشارتیں منسوب تھیں اس لئے یہ بھی پوری ہوجائیں گی یہ بھی ایمان بالغیب ہے۔پس ہر پہلو میں ایمان بالغیب ہمارے لئے اس رحمت کو جذب کرتا ہے جس پر ثواب ملے گا اور جو ہو چکا جو غیب بعد میں ظاہر بن گیا اس پر ایمان ہمارے لئے وہ لذت مہیا کرتا ہے جو آج ہم حاصل کر رہے ہیں۔دو مختلف پہلو ہیں ایک ہمارے لئے روحانی لذتوں اور سرور کا باعث بنتا ہے۔ایک بات پوری ہوگی کتنی خوشی ہوتی ہے اور ایک چیز کا ہمارے مستقبل کے ساتھ تعلق ہے اور ہمارے لئے باعث ثواب ہے اور ثواب کے حصول کی اصل جگہ تو اُخروی زندگی ہے اور وہ بھی ایمان بالغیب سے تعلق رکھتی ہے۔ایمان بالغیب ثواب کے حصول کے لئے ضروری ہے۔اور اس ایمان کے بغیر ایک مومن متقی وہ قربانیاں دے ہی نہیں سکتا جن کا اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں یہ ایمان کی طاقت ہے۔یہ ان قرائن مرتجحہ کی قوت ہے جو ایک عاشق خدا اور محب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ قربانیاں دلواتا ہے جن کا مطالبہ ہورہا ہے کیونکہ وہ شخص غیب پر ایمان لاتا اور ان بشارتوں پر اس قدر یقین رکھتا ہے جس قدر حاضر بشارتوں پر۔پس غیب پر یہ یقین ہی ہے جو ثواب کا باعث بنتا ہے۔انسان کہتا ہے ہم سے جو مانگا گیاوہ دے دینا چاہیے کیونکہ ہم سے جو مانگا گیا تھا جب دیا گیا تو اس کا بدلہ اتنا عظیم ملا ، اتنا حسین ملا،