خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 170
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۱۱رمئی ۱۹۷۳ء کے مطابق وہ کام کر رہے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اس نے فرمایا جو تم مجھ سے مانگو گے تمہارے معیار کے مطابق خیر میں نہیں دوں گا بلکہ اپنی محبت اور اپنی قدرت اور اپنے علم کے مطابق دوں گا مثلاً ہوسکتا ہے تمہاری جو درخواست ہے وہ تمہارے لئے حقیقتا دکھ دہ ہو، نقصان دہ ہو مہلک ہو مثلاً اگر کوئی مذہبی جماعت ( میں چونکہ سمجھانا چاہتا ہوں اس لئے بطور مثال لے رہا ہوں ور نہ جو زندہ مذہبی جماعتیں ہیں ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ ) روس کی طرح اللہ تعالیٰ سے یہ کہے کہ ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ چاہیے۔اے خدا! اس کے لئے تو ہمیں قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرما۔اللہ تعالیٰ اس کی اس قسم کی دعا اور درخواست کو قبول نہیں فرمائے گا کیونکہ وہ دنیا کے دل جیتنے کے لئے مذہبی جماعتوں کو قائم کرتا ہے ان کے ذریعہ دنیا کو ہلاک کرنے کے منصوبے نہیں بنائے جاتے البتہ دنیا دار لوگوں کی کوشش اندھیروں میں کبھی اچھی اور کبھی بُری ہوتی ہے مگر وہ دنیا کے لئے ہوتی ہے۔چنانچہ ان کی کوشش کے نتیجہ میں کبھی دنیا کی بھلائی انہیں مل جاتی اور کبھی نہیں ملتی لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں تم جو بھی کوشش کرو گے میں ضمانت رود دیتا ہوں کہ وہ لانفسکم تمہارے لئے بھلائی کا موجب ہو گی۔تیسری بات اس آیت کریمہ میں یہ بیان ہوئی ہے کہ ایک مومن جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت رکھتا ہے وہ جب بھی خدا کی خاطر خرچ کرتا ہے اس کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی مشفقانہ توجہ جسے وہ اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے وہ خدا کی آنکھ میں اپنے لئے پیار د یکھنا چاہتا ہے۔یہی اس کا مقصد ہوتا ہے جس میں وہ کامیاب ہوتا ہے چونکہ وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا پیار اسے مل جاتا ہے اس لئے اسے دنیا میں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی یا دنیا کی تکلیف کو وہ تکلیف نہیں سمجھتا اور پھر اخروی دنیا میں اس کی کوشش یا قربانی (مالی ہو یا جانی ) کی جو جزا ہے اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں اور پھر ہماری کوشش اور قربانی کیا ہے۔ایک عارضی کوشش ہے۔ایک ناقص کوشش ہے ایک لفظی کوشش ہے لفظی کوشش معنوی لحاظ سے ورنہ جو دیا تھا وہ خدا کا تھا۔اسی نے دیا اور ہم نے اس کے حضور پیش کر دیا۔اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کیا اس لحاظ سے میں کہوں گا کہ یہ لفظی کوشش ہے مگر اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں پورے کا پورا دوں گا اور کوئی کمی نہیں کروں گا۔