خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۶۴ خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۷۳ء تشویش پیدا ہوئی تھی وہ تو ایک قدرتی بات تھی لیکن میں نے یہ سمجھا کہ ذکر کے حکم کے مطابق گا ہے گا ہے جو یاد دہانی کروائی جانی ضروری ہے اس میں مجھ سے کچھ غفلت اور سستی ہوئی ہے اس لئے جب میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم یعنی ذکر کے مطابق احباب جماعت کو یاد دہانی کرادوں گا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کی ہم پر بارش کر دے گا۔چونکہ مالی سال کے آخری مہینے یعنی اپریل کے بعد تنخواہیں وغیرہ ملتی ہیں اور کئی دوست اس وقت اپنا بقایا چندہ ادا کرتے ہیں اور کچھ باہر سے منی آڈر چلتے ہیں اس لئے ہم ۱۰ رمئی کو آمد کے حسابات بند کرتے ہیں جب کہ خرچ کے حسابات ۳۰ را پریل کو بند ہو جاتے ہیں۔پچھلے سال بھی غالباً دس ۱۰ رمئی ہی کو آمد کے حسابات بند کئے گئے تھے۔گویا یکم مئی اور دس مئی کے درمیان دس دن کا جو عرصہ ہے اس میں جو آمد ہوتی ہے وہ گزشتہ سال کے بجٹ میں چلی جاتی ہے۔چنا نچہ اس سال بھی ایسا ہی ہوا۔جو دوست تنخواہ دار ہیں ان کو عام طور پر پہلی یا دوسری تاریخ کو تنخواہ ملتی ہیں اس عرصہ میں جو چندہ ادا ہونا ہوتا ہے یا دوستوں نے چندے دینے ہوتے ہیں یا پھر باہر سے مثلاً کراچی سے بعض لوگ مہینے کے آخر میں رقمیں دے دیتے ہیں لیکن ۱٫۳۰ پریل تک یہاں نہیں پہنچ سکتیں۔اس واسطے یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ۱۰ رمئی تک حسابات کھلے رہیں لیکن چونکہ ہر سال ۱۰ رمئی کو حسابات بند ہوتے ہیں اس لئے اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا پورا سال ہی بنتا ہے۔غرض میری یاد دہانی کا نتیجہ دو شکلوں میں ظاہر ہوا ایک تو یہ کہ احباب نے بڑے پیار کا مظاہرہ کیا۔میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے عہدیداروں نے دن رات کام کیا اور وہ لوگ (ایسے افرا د سینکڑوں ہوں گے ) جنہوں نے سال بھر ستی دکھائی تھی اپنا سارے کا سارا چندہ ادا کر دیا۔کئی دوست ہیں جن کے ذمہ بڑی بڑی رقمیں واجب الادا تھیں انہوں نے وہ ادا کر دیں۔چنانچہ جب ہم نے ۱۰ رمئی کو آمد کے حسابات بند کئے تو ۲۱ /۱ پریل تک بجٹ میں ۶٫۱۷,۸۷۱ روپے کی کمی کے مقابلہ میں ان دنوں میں ۲,۵۵,۸۳۲ روپے وصول ہوئے گویا ۳۷,۹۶۱ روپے مجوزہ بجٹ سے زائد آمد ہوئی یعنی ۲۱ /۱ اپریل کو جس بجٹ میں سے چھ لاکھ سے زائد بقایا تھا۔۱۰ رمئی کو