خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 126
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۶ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء راستہ نہ روک سکیں اور نہ صحرا اور پہاڑ ان کے راستے کی روک بنے۔وہ پہاڑوں کو پھلانگتے ہوئے صحراؤں میں دوڑتے ہوئے اور سمندروں میں تیرتے ہوئے دور دراز ملکوں میں پہنچ گئے۔وہ اپنے ساتھ ہر جگہ بنی نوع انسان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محبت اور پیار کا پیغام لے کر گئے اور ہر جگہ کامیاب رہے۔چنانچہ دنیا کی تاریخ، بنی نوع انسان کی تاریخ ، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پیار اور محبت کبھی نا کام نہیں ہوئی۔نفرت اور دشمنی ہی ناکام ہوتی رہی ہے۔خدا کا یہ قانون ہے آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں آخر کا ر محبت کامیاب ہوگی اورنفرت اور دشمنی نا کام ہوگی۔غرض جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے محبت کو قائم کیا ہے ان کی ناکامی کا تصور در اصل بنی نوع انسان کی تاریخ کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ہمیں یہ ساری باتیں ہر وقت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ہمیں بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنے کا حکم ہے ہمیں اس مقام پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں انسانی تاریخ میں ناکامی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔جس کی سرشت میں بنی نوع انسان کے لئے محبت اور پیار کا خمیر ہوتا ہے اس کی سرشت میں ناکامی کا خمیر ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ محبت اور پیار کبھی نا کام نہیں ہوئے ، اس لئے جس قسم کے حالات بھی ہوں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بعض دفعہ اکا دُکا دوست یا بعض بچے یا بعض دوست جو نئے نئے جماعت میں شامل ہوتے ہیں اور ہماری روایات کو پوری طرح نہیں سمجھتے وہ گھبرا جاتے ہیں۔جو دوست اپنی روایات سے واقف ہیں ان کو یہ کہنے کی مجھے اس لئے ضرورت نہیں کہ وہ ان باتوں کو جانتے ہیں۔طور پر پس حالات خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہوں تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔تمہیں بنیادی ا گیا ہے کہ محبت اور پیار اور ہمدردی سے بنی نوع انسان کا دل اپنے رب اور حضرت محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتو۔یہ ایک بنیادی حکم ہے اس کو کبھی نہ بھولو۔ہمیں خدا تعالیٰ نے بشارتیں دی ہیں کہ اسلام کو احمدیت کے ذریعہ عالمگیر غلبہ نصیب ہوگا۔لیکن اس کے علاوہ عقلی