خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 125

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲۵ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۳ء ملک میں بسنے والے لوگوں کی فکر ہے کہ کہیں ان کے لئے شر کے سامان نہ پیدا ہو جا ئیں اس واسطے نہ گھبرانے کی کوئی وجہ ہے اور نہ بہکنے کی کوئی بات۔خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ میرے بندوں سے حسن سلوک کرتے چلے جاؤ۔میرے بندوں سے ہمیشہ ہمدردی رکھو۔میرے بندوں کے دل کو مخلصانہ محبت اور پیار سے میری خاطر جیتو۔حقوق العباد کے سلسلہ میں یہ ایک بنیادی حکم ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم بدلا نہیں کرتے۔دنیا کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اس لئے یہ بنیادی حکم بھی نہیں بدلے گا۔نہ پہلے بدلا ہے اور نہ اب بدلے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے محدود رنگ میں ، محمد ودطریقے پر اور محدودزاویوں سے ہمیں یہی نظر آتا ہے گو یہ منظر اتنا روشن نہیں کیونکہ آفتاب رسالت ابھی تک طلوع نہیں ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، آپ کی پاک زندگی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آپ کی زندگی سے بنیادی طور پر یہی مترشح ہوتا ہے کہ آپ نے ہر ایک آدمی کا دل پیار اور محبت سے جیتنے کی کوشش کی۔آپ کی مکی زندگی مظلومانہ زندگی تھی ، دکھوں کی زندگی تھی۔غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں نے آپ کی بہت مخالفت کی۔اس کے باوجود آپ اس حقیقت کو نہیں بھولے اور اپنے صحابہ سے بھی یہی فرمایا تمہیں محبت اور پیار کرنے کا حکم ہے۔تمہیں لوگوں سے دشمنیاں رکھنے کا حکم نہیں ہے جن لوگوں نے آپ اور آپ کے صحابہ کو اڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں بھوکا رکھ کر مارنے کی کوشش کی تھی۔آپ ان کی چند دن کی بھوک برداشت نہیں کر سکے۔چنانچہ جب مکہ میں قحط پڑا تو آپ نے ان کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔اب دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا یہ کتنا حسین پہلو ہے کہ اڑھائی سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ تک جن لوگوں نے آپ کو بھو کا مارنے کی کوشش کی تھی ، آپ نے ان کی ایک دن کی بھوک برداشت نہیں کر سکے اور جتنی جلدی ممکن ہو سکتا تھا ان کی بھوک کو دور کرنے کے لئے خوراک کا انتظام فرمایا یہ ایک عظیم مثال ہے۔اس قسم کی مثال دنیا کی تاریخ میں اس میں کہیں نظر نہیں آتی۔آپ کے صحابہ نے بھی کسی سے دشمنی نہیں کی۔وہ دنیا میں پھیلے۔ایک طرف ترکی سے آگے پولینڈ تک چلے گئے ، دوسری طرف پین سے نکل کر فرانس کے اندر چلے گئے۔ادھر صحرا کو عبور کر کے مغربی افریقہ کے ساحلوں تک پہنچ گئے۔جزائر میں پہنچ گئے۔سمندر کی موجیں ان کا