خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 82

خطبات ناصر جلد پنجم ۸۲ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۳ء ڈرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کہیں کہ ہمارا قصہ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں ہم نے اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کیا ہوا ہے۔ہماری نیت یہ ہے اور ہمارے لئے پروگرام بھی یہی ہے کہ ہم افریقہ کے جنگلوں میں جا کر اسلام کی خدمت کریں اور اسلام کے غلبہ کی مہم کو کامیاب کرنے کے لئے بساط بھر کوشش کریں مگر جس وقت آپ نے ہمیں انٹرویو کے لئے بلایا تو ہم اپنے امام کے پاس گئے اور انہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر ملک کوضرورت ہوا اور جب تک ضرورت ہو اس وقت تک کام کرتے رہو اور ہمیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بورڈ سے یہ بھی کہہ دینا کہ ہم بغیر تنخواہ کے بھی ملک کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہیں چنانچہ ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ جب میں نے انٹرویو بورڈ کے صدر ( جو ایک جرنیل صاحب تھے ) کے سامنے یہ بات کی تو ان کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ایسی باتیں استثنائی صورت ہی میں سننے میں آتی ہیں اور عجیب بات ہے کہ جب بھی استثنائی طور پر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے منہ سے نکل رہی ہوتی ہے ابھی ہنگامی حالات ہیں اس لئے حکومت نے ہمارے واقف ڈاکٹروں کو فارغ نہیں کیا بلکہ جس ڈاکٹر کے متعلق میں نے بتایا ہے وہ اپنی کلاس میں اول آیا تھا اس کو اس کے بریگیڈیر ڈاکٹر نے کہا کہ خدا نے تمہیں اتنی اعلیٰ عقل و فراست عطا کی ہے تم ایک ہائر کورس (Higher Course) کر ولیکن اس کے لئے تمہیں پانچ سال کا معاہدہ کرنا پڑے گا۔اُس نے مجھ سے پوچھا میں نے کہا چپ کر کے اپنا کام کئے جاؤ لیکن بریگیڈیر صاحب کے ذہن پر ہمارے اس بچے کی ذہانت کا کچھ ایسا تاثر تھا کہ وہ ہمارے ایک احمدی کرنل سے کہنے لگے کہ اس کو جب میں یہ کہتا ہوں کہ کورس کر لو تو یہ کہتا ہے میں نے وقف کیا ہوا ہے تم میری طرف سے حضرت صاحب سے کہو کہ یہ بچہ بڑا ذہین ہے اس کو کورس کر لینے دیں پانچ سال کا معاہدہ ہے اس کے بعد نوکری چھوڑ کر خدمت کرسکتا ہے۔چنانچہ پھر میں نے بھی اجازت دے دی کہ اچھا ہے ایک اور ٹرینگ بھی ہو جائے گی اب وہ اپنا کام بھی کر رہا ہے۔ساتھ ہی کو رس بھی کر رہا ہے۔پس چونکہ ہمارے ملک کو ڈاکٹروں کی ضرورت پڑی ہمارے چند واقف ڈاکٹر بھی ملک کی خدمت کر رہے ہیں ( غیر واقف ڈاکٹر تو بہت ہیں جو ملک کی خدمت کر رہے ہیں ) ان کو ہم فی الحال