خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 784
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۸۴ خطبه جمعه ۱۵ نومبر ۱۹۷۴ء ایک سلسلہ مضامین پر میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں، یہ سلسلہ اس وجہ سے شروع ہوا کہ نیشنل اسمبلی نے ایک فیصلہ کیا اور میں نے بتایا تھا کہ جہاں تک اس پر تبصرہ کا سوال ہے میں جنوری یا فروری کو اس پر تبصرہ کروں گا لیکن جہاں تک رد عمل کا سوال ہے، میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہم قرآنی شریعت کو شریعت حقہ سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنا ضروری اور واجب سمجھتے ہیں۔قرآنِ کریم نے قرب الہی اور رضائے الہی کے لئے جو راہیں متعین کی ہیں ہم اُن پر چلنا ضروری سمجھتے ہیں بلکہ ان پر چلنے میں اپنی خوشحالی اور کامیابی کا راز سمجھتے ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں بنیادی طور پر دو قسم کی باتیں بتائی ہیں۔ایک وہ جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے اور اُن سے بچنا ضروری ہے دوسرے وہ احکام ہیں جن کے متعلق فرما یا کہ ان کے بجالانے سے اللہ تعالیٰ کا پیار، اس کی محبت اور اس کی رضا ہمیں حاصل ہوتی ہے۔بعض خطبات میں میں نے ایک پہلو کے متعلق بات کی اور بعض میں دوسرے پہلو کے متعلق بات کی۔آج میں ایک اور ایسی بات بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق قرآنِ کریم بتا تا ہے کہ اس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان سے خوش نہیں ہوتا وہ اس سے پیار نہیں کرتا۔انسان رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا اور وہ ہے اعتدا یعنی حد سے بڑھنا۔میں نے سورۃ اعراف کی جو آیات ابھی پڑھی ہیں اُن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو پکارو۔اُس سے دُعائیں کرو۔گڑ گڑا کر بھی اور چپکے چپکے بھی ، اجتماعی طور پر بھی دُعائیں کرو اور انفرادی طور پر بھی اور اُس سے یہ دعا مانگو کہ اے اللہ تو ہمارا رب ہے۔تو نے ہمیں پیدا کیا اور ہماری پیدائش کو احسن بنایا ہے تُو نے ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق قو تیں عطا کیں اور ان قوتوں کی نشو و نما کے سامان پیدا کئے ہیں۔گویا ہمارے قوی میں درجہ بدرجہ ترقیات عطا کر کے خدا تعالیٰ ہمیں بلندیوں اور کامیابیوں کی طرف لے جانے والا ہے۔اسی غرض کے لئے اُس نے شریعت حقہ کو قرآن کریم کی شکل میں نازل فرمایا۔اس لئے اس سے دعا کرو کہ وہ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اُن حدود کے اندر رہ کر اور اُن حقوق کو ادا کر کے جو اُس نے مقرر کئے ہیں اپنی ربوبیت اور نشوونما کے سامان پیدا کریں اور یہ دعا گڑ گڑا کر بھی کرو اور خفیہ بھی،