خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 60 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 60

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء بھلا ان سے پوچھو تمہارا دشمن کون ہے کیا خدا کا بنایا ہوا تمہارا ایک بھائی دشمن ہے؟ لیکن جب خدا کو نہیں پہچانا اور اسلام کی روشنی سے منور نہ ہوئے تو اس قسم کی باتیں نہ کریں تو اور کیا کریں؟ غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تمہارے ارادے میرے ارادے ہو جا ئیں اور تمہاری قوتوں کا استعمال میرے حکم، میرے امر کے نیچے آجائے۔اگر اپنی طاقتوں کو غلط جگہ استعمال کرنے سے رک جاؤ۔آخر او امر ونواہی دیئے ہی اس لئے گئے ہیں کہ تم اپنے اچھے برے اعمال کا جائزہ لے سکو اور نیک و بد میں تمیز کر سکو تو تم میرے نیک بندے بن جاؤ گے۔انسانی قوت کا استعمال صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے۔اگر تم میرے اوامر و نواہی کے مطابق اعمال بجالاؤ گے تو فَلَةٌ أَجُرُه عِندَ رَبّہ کی رو سے تم میرے بندے بن جاؤ گے۔میری صفات کا مظہر بن جاؤ گے۔یہ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِن کی جزا ہے جو حقیقی مسلمان ہوتا ہے اس کو فائدہ کیا ہوتا ہے؟ فَلَة أَجْرُه عِنْدَ رَبّہ ان کے اعتقادات جو انہوں نے رکھے اور وہ جو نیک اعمال انہوں نے کئے اس کا اجر انسان نہیں دے گا خود خدا دے گا یہ بڑا عظیم اور خوشکن وعدہ ہے۔انسان جب بدلہ نہیں دے گا تو اور کون دے گا۔انسانی اعمال کا بدلہ اللہ دے گا۔فرما یا فَلَةٌ أَجُرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ اور یہاں اللہ نہیں کہا رب کہا ہے اس میں ایک حکمت ہے کیونکہ جس نے پیدا کیا ہے وہ تمہیں پہچانتا ہے۔تمہاری قوتوں اور استعدادوں کو پہچانتا ہے۔تم تھوڑا مانگو گے اپنی قوت اور استعداد سے وہ تمہیں زیادہ دے گا کیونکہ وہ رب ہے کیونکہ کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور تم زیادہ مانگو گے جو کہ تمہاری تباہی اور ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔یہ زیادتی ہے تو وہ تمہیں تھوڑا دے گا کیونکہ وہ ربّ ہے تم جتنا برداشت کر سکتے ہو اتنا دے گا۔ماں اپنی ساری محبت کے باوجود بعض دفعہ بیٹے کو کم دے دیتی ہے اور بعض دفعہ زیادہ دے دیتی ہے۔میرے پاس دوست آتے رہتے ہیں کوئی کہتا ہے میرا یہ بچہ ہے کچھ کھا تا نہیں ہے اور عام طور پر یہ بات صحیح ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ یہ کھاتا ہے یا نہیں کھا تا بلکہ سوال تو یہ ہے جو یہ کھانا چاہتا ہے وہ تم دینے کے لئے تیار ہو یا نہیں۔یہ کہتا ہے میں نے چنے کھانے ہیں تم کہتے ہو نہ !