خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 775
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۷۵ خطبہ جمعہ ۸ /نومبر ۱۹۷۴ء وَلِيُّ الْمُؤْمِنین کہ مومنین کا خدا ولی بن جاتا ہے لیکن بعد میں جو تین چار آیات اکٹھی میں نے پڑھی ہیں پہلے میں اُن کے معنی بیان کرتا ہوں پھر ان کے اندر بیان شدہ مضمون آپ کے سامنے کھول کر بیان کروں گا۔الا ان اولیاء اللہ اگر تم خدا کے حکم کو مان کر اللہ تعالیٰ کے ولی بن جاؤ گے اور اُس سے محبت رکھنے لگو گے اور اس کے اتنے قریب ہو جاؤ گے کہ تمہارے اور خدا کے درمیان کوئی اور وجو د ساہی نہیں سکے گا (بالکل ساتھ جڑے ہوئے ہونے کے تعلق کو ولایت کہتے ہیں ) جو خدا کے ولی ہو جاتے ہیں اُن پر نہ کوئی خوف مستولی ہوتا ہے اور نہ غمگین ہوتے ہیں اور پھر فرمایا اولیاء اللہ وہ ہیں جو ایمان لائے یعنی زبان اور دل سے اقرار اور تسلیم کیا اور اعمال سے اُس کا اظہار کیا اور تقویٰ کو ہمیشہ لازم حال رکھتے ہیں۔ان کے لئے اس ورلی زندگی میں بھی خدا کی طرف سے بشارت پانے کا انعام مقرر ہے۔اللہ تعالیٰ کی بشارتیں وہ سنتے ہیں اس لئے کہ اُن کو قرب کامل و تام حاصل ہے جس سے زیادہ قرب کوئی متصور ہو ہی نہیں سکتا اور بعد والی زندگی میں بھی اُن کا یہی حال ہوگا کہ فرمایا اور اللہ کی فرمودہ باتوں میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اور پھر فرما یا کہ خدا کا ولی بن جانا اور خدا کی ولایت حاصل کر لینا کہ اللہ بھی ولی بن جائے یہ ایک ایسی کامیابی ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی کامیابی متصور ہو ہی نہیں سکتی اور چاہیے کہ اُن ( مخالفوں ) کی کوئی مخالفانہ تمسخر اور استہزاء کی بات تمہیں غمگین نہ کرنے پائے۔مخالفت کی کوئی بات تمہیں اس لئے غمگین نہ کرے کہ غلبہ اللہ کا ہی ہے۔اس کے علاوہ اُس کے ارادہ اور منشا کے خلاف کوئی طاقت ہے ہی نہیں جو اُس کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکے کیونکہ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (یونس: ۶۶) اور تمسخر اور استہزاء دونوں معنی اس کے میں نے کر دیئے ہیں۔قرآنِ کریم نے اشارہ کیا ہے اس کو جب واضح کیا جائے تو اس میں مخالفانہ بات اور تمسخر اور استہزا کی بات دونوں مفہوم آ جاتے ہیں اور آگے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ عربی زبان اور قرآن کریم کے محاورہ میں دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ نہ اُس کے علاوہ کسی اور کا حقیقی غلبہ ہے اور نہ اُس کے علاوہ عزت کے حصول کا کوئی اور سر چشمہ ہے۔پس دنیا اولیاء اللہ سے اگر تمسخر اور استہزاء سے پیش آئے تو غم کی کوئی بات نہیں اس لئے کہ عزت ، مخالفانہ تمسخر اور استہزا کو حاصل نہیں بلکہ عزت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔