خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 58 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 58

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸ خطبہ جمعہ ۲ / مارچ ۱۹۷۳ء میں جو کچھ ہے ان کو اس رنگ میں خدمت پر لگا یا جائے کہ نیکی دنیا میں قائم ہو جائے۔انسان کا نیکی پر پختگی سے قائم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان عملی طور پر اپنی زندگی وقف کر دے یا اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دے۔اس کو سونپ دے اعتقاداً اور عملاً ہر دو طریق پر اپنے سارے وجود اور اپنے وجود کی سب خواہشات اور ہر عزم اور ہمت جو ہے اور ہر قوت اور اس کا استعمال خدا کو سونپ دیا جائے۔اس کی خواہش کے مطابق ہماری خواہشات اور اس کے حکم کے مطابق ہماری اپنی قوتوں کا استعمال تسخیر عالمین کی کوشش کے لئے وقف ہو جائے۔بعض نادان کہہ دیتے ہیں کہ مذہب کا مطلب ہے درویش پین۔یہ غلط ہے۔مذہب کا اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالیٰ تسخیر عالمین کی قوتیں انسان کو عطا نہ کرتا۔اس لئے مذہب کا یہ مطلب نہیں کہ درویش بن جاؤ ، گوشہ نشین بن جاؤ ، دنیا سے قطع تعلق کر لو جنگل میں چلے جاؤ ، درخت کے نیچے اپنا ڈیرہ ڈال لو اور صبح شام اللہ ھو اللہ ھو کہتے رہو۔مذہب کا یہ مطلب نہیں۔مذہب کا تو یہ مطلب ہے کہ اصلاح ہو یعنی اعتقادا اور عملاً اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کے حضور سونپ دینا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمین جس کی تسخیر کے لئے جو قو تیں عطا کی گئیں ہیں اس سے ہم قطع تعلق نہیں کر سکتے۔یہ تو خدا تعالیٰ کے منشا کے خلاف ہے ورنہ وہ ہمیں طاقت ہی نہ دیتا لیکن تسخیر عالمین کے لئے اپنی قوتوں کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ انہیں خدا کے منشا کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔اس کے حکم کے نیچے ہونا چاہیے ورنہ پھر آدمی بیٹھ جائے پھر وہ اس سے تو ایک قدم آگے بڑھے گا جس نے کہا تھا کہ اس عالمین سے انسان کا کیا تعلق؟ گو وہ ایک قدم آگے بڑھا اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہاں آکر وہ ٹھہر گیا۔وہ روسی کمیونسٹ بن گیا اور کہ دیا میں اپنی قوتوں کو استعمال کر کے اس عالمین کی تسخیر اللہ تعالیٰ کے منشا کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی منشا کو پورا کرنے کے لئے کروں گا۔پھر انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہے گی۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ یہ عالمین اور یہ ساری خلق یعنی زمین و آسمان کے اندر جو کچھ پایا جاتا ہے ان سے خدمت لو۔گویا انسان کی خدمت کرنے کے لئے کائنات معرضِ وجود میں آئی لیکن ایسے آدمی پیدا ہو گئے جو کہتے ہیں ہم ان سے خدمت لیں گے۔انسان کو دُکھ