خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 743 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 743

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۳ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء نے فرمایا ہے کہ بڑے ہو کر چھوٹوں سے محبت اور پیار کا سلوک کرو نہ یہ کہ اُن پر تکبر کا اظہار کرو۔پس جو عالم ہے وہ اپنے علم پر غرور نہ کرے۔جو مالدار ہے وہ اپنے مال پر غرور کر کے اپنے بھائیوں کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہ آئے لیکن یہی تکبر سے پر ہیز ایک منفی پہلو ہے اور اس کے مقابلہ میں مثبت اخلاق بھی ہیں۔جس وقت اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو تو وہ پھر نہایت درجہ کی عاجزی بن جاتی ہے اور انسان خدا کے مقابلہ اپنی نیستی کی حقیقت کو پہنچانے لگتا ہے۔پس انسان سے با اخلاق انسان بنایا اور پھر با اخلاق سے باخدا انسان بنایا۔اسلام کے اندر یہ طاقت پائی جاتی ہے۔اسلام اور قرآن کریم کی ہدایت نے اپنی اس قوت و طاقت کا عملی نمونہ دکھایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑی شان سے یہ چیز ہمیں نظر آتی ہے لیکن آج تک قرآنی شریعت و ہدایت نے عملی نمونہ دکھایا ہے۔وہ جو ایک ایک آدمی دُنیا کے کناروں تک چلا گیا تھا اور وہاں انسان کا دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے لئے جیتے تھے اُس نے اپنے نمونہ سے، اپنے اخلاق سے، اپنے کردار سے، اپنے فعال اور نیک اعمال سے اور حسن کے جلوے لوگوں کو دکھا کر احسان کی طاقت کا مظاہرہ لوگوں کے سامنے کر کے اُن لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کیا۔ایک بڑا مشہور تاریخی واقعہ ہے۔سینیگال جس کے جغرافیائی حدود اُس وقت آج کی نسبت مختلف تھے اُس وقت بہت بڑا علاقہ تھا۔اس میں بعض بہت بڑے بڑے دریا ہیں۔وہاں ہمارے ایک بزرگ گئے۔انہوں نے وہاں تبلیغ کی لیکن کوئی اُن کی بات نہ سنتا تھا اور ایک لمبا عرصہ تبلیغ کے بعد مایوس ہو کر اُنہوں نے سوچا کہ میں ان لوگوں کی خاطرا پنا وقت ضائع کر رہا ہوں۔اصل چیز تو یہ ہے لَا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة : ١٠٦ ) اگر ہدایت اُن کے نصیب نہیں تو میں جا کر اپنی عاقبت سنواروں۔وہ ایک بہت بڑے جزیرہ میں چلے گئے اور وہاں جا کر عبادت شروع کر دی خدا تعالیٰ نے اُن کو ایک معجزہ دکھانا تھا۔خدا تعالیٰ نے اُن پر قرآنِ عظیم کی تأثیر ظاہر کرنی تھی۔انہوں نے وہاں ایک جھونپڑا بنایا کچھ شاگر د ساتھ ہی گئے ہوئے تھے۔وہ چند آدمی وہاں رہنے لگے اور غریبانہ درویشانہ زندگی گزارنی شروع کی۔تب خدا نے فرشتوں کو کہا کہ