خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 735 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 735

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۵ خطبہ جمعہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۷۴ء نِ الطَّرِيقِ والا ثواب اس نے حاصل نہیں کیا۔یہ چیزیں ہیں جو بین الصلوتین اور دو جمعوں کے درمیان اور دور مضان کے درمیان معاف ہوتی ہیں اور نہ بنیادی طور پر ایمان پر بکلی یعنی شاخوں سمیت قائم رہنا ضروری ہے اور ہمیں خدا تعالیٰ نے ایک دعا سکھائی ہے اور وہ یقیناً بنیادی چیز ہے کہ ایمان پر مضبوطی سے قائم رہا جائے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے تمہیں میرے حضور عاجزانہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس لئے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہا السلام کے اُسوہ کے مطابق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں اور آپ کے اُسوہ کے مطابق ہمیں ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے ہمارے پیارے ربّ! ہمارے ایمانوں کو محفوظ رکھ اور سلامت رکھ کہ تیرے فضل کے بغیر ہمارے ایمان ہر وقت خطرہ میں پڑے رہتے ہیں۔پس اپنے ایمانوں کی سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کی احتیاج ہے۔اس کے بغیر کسی اور کی احتیاج نہیں ہے۔اسی کے ذیل میں میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن میرا خیال ہے وہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا۔آدھ پون گھنٹے کا مضمون ہے اس کو ادھورا چھوڑ نا نا درست نہیں (اس لئے وہ پھر کسی موقع پر بیان ہو جائے گا ) بہر حال میں نے آپ کو یہ بتایا ہے۔بچوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یہ ہے کہ ہر نماز پہلی نماز اور اپنے درمیان کے وقفہ ( میں سرزد ہونے والی خطاؤں کو معاف کرواتی ہے ) اس درمیانی وقفہ میں جہاں نماز کی عبادت کی علاوہ دوسری ذمہ داریاں انسان نباہتا ہے۔ان میں کوئی ایسا وقفہ نہیں جو دو نمازوں کے درمیان نہ ہو۔صبح کی نماز اور ظہر کے درمیان ، ظہر اور عصر کے درمیان ، عصر اور مغرب کے درمیان، مغرب اور عشاء کے درمیان ،عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان ، یہی ہماری زندگی ہے۔دن اسی کا مجموعہ ہے۔پانچ نمازوں کے اوقات مل کر ایک دن بن جاتے ہیں اور یہ دن مل کر ہفتے بن جاتے ہیں اور ہفتے پھر سال بن جاتے ہیں اور کئی سال اکٹھے ہو کر ہماری عمر بن جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہمیں یہ بشارت دی کہ نماز، نماز کے درمیان کی جو کوتاہیاں اور غفلتیں ہیں ان کے لئے نماز میں دعا کرو اور اللہ تعالیٰ سے کہو کہ جو ہم سے غفلتیں ہوگئی ہیں وہ دور کر اور ہمیں معاف