خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 734
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۴ خطبہ جمعہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۷۴ء استحکام کو کمزور کرنے والا ہو اور اسے انصاف اور عدل کی بنیادوں سے ہٹا کر بے انصافی اور ظلم کی طرف دھکیلنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس سے محفوظ رکھے۔پس شرک کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مقابلہ میں لا الہ الا الله ہے یعنی خدائے واحد و یگانہ کی ذات اور صفات کو سمجھنا اور اس کی معرفت حاصل کرنا اور کسی چیز کو بھی کسی رنگ میں کسی طور پر اس کی ذات اور صفات میں شریک نہ ٹھہرانا یہ ہے لا إِلهَ إِلَّا الله ) کا صحیح معنی میں اقرار ) پھر نماز ہے، روزہ ہے، زکوۃ ہے، حج ہے اگر شرائط حج پوری ہو جائیں۔اسی طرح دیگر احکامات ہیں۔مثلاً جہاد ہے۔یہ بڑا ضروری حکم ہے۔لیکن اس کے لئے بہت سی شرائط ہیں۔جماعت احمدیہ سے پہلے بزرگوں نے بھی کہا ہے کہ جہاد کی پہلی شرط یہ ہے کہ ساری اُمت مسلمہ کا ایک امام اکبر ہو یعنی ساری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک امام اکبر ہو اور اس کے بغیر جہاد نہیں ہے۔جہاد کی کئی قسمیں ہیں لیکن اس وقت یہ میرا مضمون نہیں ہے۔فرائض میں بھی آپس کا فرق ہے لیکن بنیادی طور پر جو فرض ہے وہ ہے خدا تعالیٰ کے حکم کو ماننا یعنی خدا تعالیٰ کے حکم کے سامنے باغیانہ رویہ اختیار نہ کرنا۔اس کے حضور جھکے رہنا اور تمثیلی زبان میں یہ کہ ) اس کے پاؤں پر اپنے ماتھے کو ہر وقت لگائے رکھنا اور اسی کے ہو جانا اور غیر اللہ کی طرف نگاہ نہ کرنا یہ ایمان کی بنیاد ہے اور یہ جو اصولی تعلیم ہے اس کو ترک کرنا کبائر میں سے ہے۔میں تفصیل میں نہیں جارہا۔تفصیل میں پھر بعض صفا ئر بھی آجاتے ہیں۔مثلاً چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ یعنی رستہ میں کوئی ضرر رساں چیز پڑی ہو اس کو ہٹادینا یہ چھوٹے سے ایمان کا ایک فعل ہے تو جو شخص راستہ میں مثلاً کیلے کا چھلکا پھینک دیتا ہے یا اور کوئی گند پھینکتا ہے تو وہ گناہ کرنے والا ہے لیکن ہر گناہ کبیرہ نہیں ہے صغیرہ ہے لیکن ہمیں یہ بھی حکم نہیں کہ کبائر سے بچو اور صغائر کرتے رہا کرو۔ہمارے ایمان کا یہ تقاضا نہیں۔حکم یہ ہے کہ کبائر سے بھی بچو اور صغائر سے بھی بچو ہر دو سے بچنے کا حکم ہے لیکن انسانی کمزوریاں ہیں وہ بعض دفعہ سہو بے خیالی میں چلتے چلتے چھلکا پھینک دیتا ہے اور بے خیالی میں اپنے دھیان میں کچھ سوچتا چلا جا رہا ہے اور سامنے راستہ میں چھلکا آیا وہ اس نے دیکھا نہیں اور اٹھایا نہیں اور اماطة الأذى