خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 730
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۳۰ خطبہ جمعہ ۱۱ را کتوبر ۱۹۷۴ء نوع انسانی کی تقدیریں بھی بعض دفعہ بدل جاتی ہیں۔اس عشرہ میں یہ ہمارا جمعتہ (الوداع) واقع ہے۔جمعہ خود بہت سی برکتیں اپنے ساتھ لاتا ہے۔خواہ وہ رمضان میں ہو یا رمضان سے باہر ہو۔خواہ وہ ( رمضان کے ) پہلے ہیں دنوں میں ہو یا رمضان کا آخری جمعہ ہو۔یہ تو صحیح ہے کہ رمضان کے بابرکت ایام کے آخری عشرہ کے بہت ہی زیادہ با برکت ایام میں یہ خصوصی برکتوں والا دن جسے ہم جمعہ کہتے ہیں آیا ہے لیکن جماعت احمدیہ اور اس کے افراد کو جنہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان نصیب ہوا ہے۔ہمیشہ اس چیز سے بچتے رہنا چاہیے کہ ایسی بدعتیں جو نا پسندیدہ ہوں اور شریعت اسلامیہ کے خلاف ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہمیں ان کا پتہ نہ ملتا ہو وہ بدعتیں کسی چیز میں بھی شامل نہ ہوں اس جمعہ میں بھی شامل نہ ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ تو علم حاصل ہوتا ہے کہ جمعہ ایک برکت والا دن ہے اس میں بعض گھڑیاں ایسی ہیں جن میں خاص طور پر دعا قبول ہوتی ہے اور یہ ایک ایسا دن ہے جو پہلے چھ دنوں میں ایک مومن اپنی ذمہ داریاں دنیوی بھی اور دینی بھی ادا کرتے ہوئے جو کمزوریاں اپنی اس کوشش میں چھوڑ جاتا ہے اللہ تعالیٰ جمعہ کی انہی بابرکت گھڑیوں میں ان کمزوریوں کے بداثرات کو دور کر دیتا ہے اور وہ معاف کر دیتا ہے۔دعاؤں کی یہ بابرکت گھڑیاں کفارہ بن جاتی ہیں عبادات اور فرائض کی ان خامیوں اور کمزوریوں کے لئے جو انسان بشری کمزوری کی وجہ سے پچھلے چھ دنوں میں کرتا آیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز کے علاوہ بھی تم پر دینی اور دنیوی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں اور دو نمازوں کے درمیان یہ ذمہ داریاں تم بہر حال ادا کر تے ہو جو نماز کے علاوہ ذمہ داریاں ہیں وہ نماز کے اندر تو نہیں ادا ہوتیں۔جس وقت آدمی نماز پڑھ رہا ہو اس وقت تو نماز کی یعنی الصلوۃ کی ذمہ داری، با جماعت فرض نماز کی ذمہ داری اور سنت اور نوافل کی ذمہ داری ادا کرتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر صرف نماز پڑھنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے عائد نہیں کی بلکہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی (نماز کے علاوہ) دوسری ذمہ داری ہے۔نماز میں بھی حقوق العباد کی ایک ذمہ داری ہم پر پڑتی ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں۔سب انسانوں کے لئے دعائیں کرنا ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ہیں۔حقوق اس معنی