خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 722
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۲۲ خطبه جمعه ۴/اکتوبر ۱۹۷۴ء عظمت دینا جو موجود ہی نہ ہو تصنع سے یا میں کہوں گا حماقت سے تصنع سے تو لغت نے کہا ہے اور حماقت سے ایسا سمجھنا تکبر کی حقیقت ہے یعنی آدمی خود کو کچھ سمجھ لے، یہ میرے نزدیک حماقت ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے جو احکام نازل ہوں ان کے مقابلہ میں تکبر کر کے ان کا انکار کرنا یا قبول کر کے ان کے مطابق اعمال نہ بجالانا یہ تباہی کا موجب ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نفرت کا باعث بنتا ہے۔ہم جو احمدی ہیں ہمیں سارے کے سارے احکامات یعنی اوامر ونواہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ملے ہیں اور وہ قرآنِ عظیم میں بیان ہوئے ہیں۔یہ وہ کتاب ہے جس کی عظمت کا انسانی عقل احاطہ نہیں کر سکتی اور جس کے معانی پر انسانی علم پوری طرح حاوی نہیں ہوسکتا۔اس آخری ہدایت اور ابدی شریعت نے ہمیں وہ تمام احکام دیئے جو انسان کو جسمانی اور روحانی طور پر انتہائی رفعتوں تک پہنچانے والے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ اعلان فرمایا کہ خدا کے مقرب بندے میرے لائے ہوئے احکام یعنی میری شریعت اور ہدایت پر عمل کر کے پہلوں کی نسبت بہت زیادہ تعداد میں بھی اور قرب میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو پائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور تقرب یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے پیار کی باتیں سنے کیونکہ ایک ایسا پیار یا پیار کے حصول کا ایک ایسا دعویٰ جس کے لئے کوئی دلیل نہ ہو، بے معنی دعوئی ہے۔یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ جب وہ کسی سے پیار کرے تو اس سے گفتگو بھی کرے۔یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ جب وہ کسی سے محبت کرتا ہے تو وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے پیار اور گفتگو کرے۔فطرت کی پہلی آواز کہ جس سے انسان پیار کرے اس سے باتیں بھی کرے، دعا ہے۔اسلام نے دعا کرنے کا حکم دیکر ہمیں ایک عجیب چیز عطا کی ہے۔انسان اپنے خدا سے دعا کرتا ہے اور وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کی معرفت تو ہمیں حاصل ہوتی ہے لیکن بوجہ اس کے کہ وہ اپنے وجود اورا اپنی کیفیت میں اتنا مختلف ہے کہ ہماری آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی اس لئے وہ اپنی صفات کی تجلیات سے خود کو شناخت کرواتا ہے وہ اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔یہ نشانات ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ حسن ، حسن از لی کا ہے۔جس طرح پھول پس پردہ ہوتے ہوئے بھی خوشبو سے اپنی شناخت کروا