خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 715
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۱۵ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء پڑیں گی جس طرح میں نے کیں، روزے اس طرح رکھنے پڑیں گے جس طرح میں نے رکھے۔یہ درست ہے کہ آپ کی استعداد تمام بنی نوع انسان سے زیادہ تھی۔اُسوہ اور مثال یہ نہیں کہ آپ اگر ساتویں آسمان سے اوپر نکل گئے (اور آپ کا مقام عرشِ ربّ کریم پر ہے ) تو ہر مسلمان کو ساتویں آسمان سے اوپر نکلنا چاہیے، یہ نہیں کہا، یہ اُسوہ نہیں ہے۔اُسوہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف ایک ہستی کو ساتوں آسمان پار کر کے عرشِ ربّ کریم کے پاس جگہ دینی تھی تو وہ شخص اپنی استعداد اور قوت کی کامل نشو ونما کے نتیجہ میں وہاں پہنچ گیا تو جس کی جتنی جتنی استعداد اور قوت ہے اپنی استعداد اور قوت کے دائرہ کے اندر سب سے زیادہ جو روحانی اور جسمانی مقام انسان کو حاصل ہوسکتا ہے وہ اس کو حاصل ہونا چاہیے اور وہ جو اتباع کرے گا اس کے نتیجہ میں جو اس کی طاقت اور اس کی روحانی استعداد ہے اس کے مطابق وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اور اسی استعداد کے مطابق وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے والا ہے اور یہ چیز مَحَلَّ اعتراض نہیں کیونکہ جس برتن میں صرف ایک سیر دودھ سا سکتا ہے اس میں اگر تم ڈیڑھ سیر ڈالو گے تو آدھ سیر بہہ جائے گا اور ضائع ہو جائے گا کیونکہ اس برتن میں سیر سے زیادہ گنجائش ہی نہیں ہے۔یہی حالت انسان انسان کی ہے۔انسان کا جو ظرف ہے (انسان کے معاملہ میں ہم ظرف کہتے ہیں ) جس طرح دودھ کے برتن ہیں اور گھی کے برتن ہیں اور آٹا رکھنے کے برتن ہیں اور پھر توڑی رکھنے والے بڑے بڑے چھتوں والے کمرے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ لپائی کر کے گم سم چھپا ہوا ایک گھر بنالیا جاتا ہے جس میں تو ڑی بھر لی جاتی ہے۔تو اگر وہ دس گز کے رقبہ میں بنا ہوا ہے تو اتنی ہی تو ڑی آئے گی۔اگر وہ سو گڑوں کی گنجائش والی جگہ ہے تو اتنی بلندی تک لے جا کر آپ سو گڑے تو لپائی کر سکتے ہیں اس میں دو سو گڈے نہیں سما سکتے۔اسی طرح ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے ایک ظرف دیا ہے اور ہر فرد واحد کے لئے انتہائی خوشی کے سامان یہ ہیں کہ جتنا اس کے اندر سما سکتا تھا اس کو مل گیا۔جس طرح ان سو برتنوں میں سے جن میں ایک سیر دودھ پڑسکتا ہے۔زبانِ حال سے سب سے زیادہ خوش وہ برتن ہے جس میں ایک سیر دودھ پڑ گیا اور ان سو میں