خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 714 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 714

خطبات ناصر جلد پنجم پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔۷۱۴ خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء میں آپ کو یہ دو مثالیں دے کر یہ سمجھا رہا ہوں کہ محض علم اور معرفت کا حاصل ہونا نتیجہ خیز نہیں۔اس کے لئے اس کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔پس معرفت صرف علم ہے اس سے انسان اللہ تعالیٰ کی اس شان کو جو فی الواقعہ ہے جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا اور اس کی عظمت اور اس کا جلال اور اس کی کبریائی اور اس کی وحدت، ان چیزوں کی جب انسان معرفت حاصل کرتا ہے تو پھر اس میں ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت تو بہر حال عمل کروا دیتی ہے کیونکہ پھر دوری نا قابل برداشت ہو جاتی ہے لیکن ہم یہ ممکن مثال لے رہے ہیں کہ ) اگر معرفت ہو اور عمل نہ ہو، قریب جانے کی کوشش نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اعمالِ صالحہ کی طرف توجہ نہ ہو جہاں سے ہمیں ان اعمال کا علم مل رہا ہے یعنی قرآن کریم ، وہ ہم پڑھیں نہ، اس پر غور نہ کریں، قرآن کریم کے علم کے مطابق کوئی نمونہ ہمارے سامنے نہ ہو اور اسوۂ حسنہ کو نظرانداز کر دیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام دنیا کے لئے اور تمام ان لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا چاہتے ہیں ایک اُسوہ حسنہ ہیں۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ (الممتحنة: ٧) جو خدا کو چاہتا ہے اور اس کی محبت حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے اور امید رکھتا ہے اور رجاء رکھتا ہے اس کے لئے محض معرفت کے نتیجہ میں سینوں میں اور دلوں میں محبت کا پیدا ہو جانا کافی نہیں اور حقیقتا تو وہ محبت ہے ہی نہیں جو عمل کی طرف انسان کو اکساتی نہیں۔قرآنِ کریم نے کہا اِن كُنتُم تُحِبُّونَ الله اگر معرفتِ باری تمہیں حاصل ہوگئی اور خدا تعالیٰ کی معرفت کے بعد تمہارے دل میں اس کا پیار پیدا ہو گیا تو پھر بھی تمہیں اس کا ود پیار نہیں ملے گا جب تک تم فَاتَّبِعُونِي يُحبكم الله کے مطابق میری ( یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ) کامل اتباع نہیں کرو گے۔یہ اعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کروایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اسوہ بنایا ہے اگر اپنی محبت کے بدلے میں خدا تعالیٰ کی محبت کی توقع اور رجاء رکھتے ہو تو میری اتباع کرنی پڑے گی، میرے پیچھے چلنا پڑے گا ، نمازیں اس طرح ادا کرنی