خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 713 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 713

خطبات ناصر جلد پنجم ۷۱۳ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء بات یہ ہے کہ کوئی چیز بھی اور خصوصاً جو بڑے بڑے سائنس کے علوم ہیں وہ عمل ( اور عملی تجربات) کے بغیر بے نتیجہ ہیں یعنی محض علم کا ہونا انسان کو اس کا پھل نہیں دے سکتا جب تک عمل نہ ہو۔اس کی عام فہم مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دی ہے ( بچے بھی سمجھ لیں گے ) اگر ڈاکٹر یہ کہے کہ بچے کوملیر یا بخار ہے اسے کونین دو لیکن بچہ کہے کہ کونین کڑوی ہے میں نہیں کھاؤں گا اور نہ کھائے تو ( کیا) کونین کا فائدہ اس بچہ کو ہو گا ؟ صرف اس علم کی وجہ سے کہ کونین سے ملیر یا کا بخار اتر جاتا ہے وہ بخار نہیں اترتا۔محض علم بخار نہیں اتارتا۔علم کے مطابق عمل کرنا بخارا تارتا ہے۔یہ علم اب عام زمینداروں کو بھی ہو گیا ہے کہ گندم کے بہت سے بیچ ایسے ہیں جن کے لئے زیادہ مقدار میں مصنوعی کھاد کی ضرورت ہے اور مصنوعی کھاد زیادہ پانی مانگتی ہے۔اگر انسان گندم کے لئے بیج لگا دے اور تجربوں سے جو ثابت ہوا ہے کہ اتنی کھاد چاہیے اس کا پتہ تو ہومگر اس پر عمل نہ کرے ( انسان کا علم ہر روز ناقص ہی رہتا ہے نئے نئے تجربے ہوتے رہتے ہیں اور نیا علم انسان کو بتا تا ہے کہ پہلا علم ناقص تھا جس پر تو نازاں ہوا کرتا تھا، بڑا فخر کرتا تھا بہر حال ) اب ماہرین یہ کہتے ہیں کہ نئے بیج کے لئے ایک اور دو کی نسبت سے کھاد کی ضرورت ہے یعنی تین میں سے ایک فاسفورس اور دو یوریا کی نسبت ضروری ہے۔اگر ایک بوری فاسفورس کی ڈالی ہے تو دو بوری یوریا یا اگر سو پاؤنڈ فاسفورس ڈالا ہے تو دو سو پاؤنڈ یوریا چاہیے۔اگر کوئی ایسا بیج لگائے اور اس کو صحیح مقدار میں کھا د اور وقت پر پانی ملتا رہے تو پچاس یا ساٹھ من ایک ایکڑ میں سے گندم ہو جائے گی۔بیج تو وہ لگا دے لیکن کھا د دینے کا وقت آئے تو وہ سوچے کہ کون رقم خرچ کرے بس اسی طرح ٹھیک ہے، اللہ مالک ہے، تو خدا کا قانون اور حکم کہتا ہے کہ جو علم میرے قانون کا تم نے حاصل کیا اگر اس کے مطابق تم عمل نہیں کرو گے تو نتیجہ وہ نہیں نکلے گا جس کی تم توقع رکھتے ہو یا جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔محکمہ زراعت والے مشورہ دیتے ہیں کہ اتنی کھاد ڈال دو اور اگر آپ اتنی کھاد ڈال دیں اور محکمہ آبپاشی آپ کو وقت پر پانی مہیا نہ کرے جیسا کہ بسا اوقات احمدی میرے پاس یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں وقت پر پانی نہیں دیا اور نہر یا سوئے بند کر دیئے اور درمیان میں کوئی ایسی روک آجاتی ہے تو سوکھے کی وجہ سے گندم کے جلنے کا امکان زیادہ ہے پچاس ساٹھ من گندم