خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 710 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 710

خطبات ناصر جلد پنجم 41° خطبه جمعه ۲۰ ر ستمبر ۱۹۷۴ء جو دعا بھی کرتا ہے اور صبر بھی کرتا ہے (وہ کامیاب ہو گا۔) صبر کے جیسا کہ میں نے ابھی معنی بتائے ہیں یہ ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے روحانی عمل کے اندر کمزوری نہیں پیدا کر سکتی۔جب انسان آزمایا جاتا ہے تو اس کی تدبیر کمزور ہونے کی بجائے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔اس لحاظ سے یہاں یہ مفہوم ہوگا کہ جو دعا اور جو تد بیر وہ تدبیر جو صحیح معنی میں ہو اور ان راہوں پر ہو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی محبت انسان حاصل کرتا ہے۔ویسی تدبیر اور دعا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی معیت جو انسان کی جسمانی اور روحانی زندگی کے لئے چاہیے۔وہ معیت اسے میسر آجاتی ہے اور جب اِنَّ اللهَ مَعَ الصّبِرِینَ کے معنی دوسری جگہ سورہ بقرہ میں ہی ہمیں یہ بتائے کہ یہ آیات صبر ، مصیبت اور آزمائش اور امتحان اور اس کی جزاء سے متعلق ہیں ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مصیبت کے وقت اور امتحان کے زمانہ میں۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقرۃ: ۱۵۷) کا زبانی اور عملی ورد کرتا ہے۔انا للہ کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ہم نے تو سارا کچھ تیرے سپر دکر دیا۔ہم سارے کے سارے خدا کے ہیں۔لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْاَرْضِ (البقرة: ۱۰۸) زمین و آسمان خدا کی ملکیت ہے۔یہ ل“ کے معنوں میں داخل ہے۔انسان کو خدا نے کچھ تھوڑا سا اختیار دیا تھا انسان کہتا ہے انا للہ ہم سارے کے سارے ہر پہلو سے تیرے ہی ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ زندگی یہاں ختم ہونے والی نہیں اور ہم تیری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔اس زندگی میں بھی اس رجوع کا مطلب یہ ہے کہ تو ہمیں اپنی حفاظت میں رکھ اور ہمارے اعمال کا نتیجہ اچھا نکال اور اُخروی زندگی میں ہمیں پچھتاوا نہ ہو کہ ہم نے دنیا میں جو نیک کام کر کے اللہ تعالیٰ کی جنتوں کو حاصل کرنا تھا اس میں کوتاہی اور غفلت اور وھن اور ضعف پیدا نہ ہو۔وہ آیات جن میں مختلف آزمائشوں کا ذکر ہے مثلاً وَ لَنَبْلُونَكُم بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوفِ۔۔۔۔الخ وہ آزمائشیں اس وقت میرے مضمون کا حصہ نہیں۔میرا مضمون یہ ہے کہ ہر آزمائش کے وقت خدا تعالیٰ کے ان احکام کو سامنے رکھ کر انا لہ کا احساس (ذہنی احساس اور عملی احساس) قائم رکھنا کہ جس کے ہم ملک ہیں اور ایک زبر دست ہستی اپنی ملکیت کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے وہ سلوک ہم اس سے متوقع رکھتے ہیں اور ہم اس کی پناہ میں ہیں وہ ہمیں آزمائے گا تو سہی لیکن ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑے گا۔وہ ہمیں 66