خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 706 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 706

خطبات ناصر جلد پنجم 2۔4 خطبه جمعه ۲۰؍ ستمبر ۱۹۷۴ء آج میں مختصراً دو ایسی مثبت باتیں لوں گا جن کے متعلق قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ اگر تم یہ اعمال بجالا ؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت تمہیں مل جائے گی یعنی معرفت کے نتیجہ میں پیدا کرنے والے رب کریم کے لئے جو تمہارے دل میں پیدا ہو گا وہ یکطرفہ نہیں رہے گا بلکہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ پیار کا سلوک کرے گا اور اس کی رضا کو تم حاصل کرو گے۔ان میں سے پہلی چیز صبر ہے۔سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ (آل عمران: ۱۴۷) اور اس آیت میں صبر کے دو پہلو نمایاں کئے ہیں اسی آیت میں جس کے آخر میں فرمایا وَ اللهُ يُحِبُّ الطبرین اس کے شروع میں دو معنی بتائے ایک یہ کہ وہ تکالیف جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہنچی ہیں ان کے نتیجہ میں انسان ست ہوتا ہے نہ ضعف کے آثار اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں یعنی ضعف اور کمزوری پیدا نہیں ہوتی اور سستی پیدا نہیں ہوتی تو جوں جوں اللہ تعالیٰ کی آزمائش میں ( آفات کے ذریعہ اور ابتلا کے ذریعہ اور بأساء کے ذریعہ ضراء کے ذریعہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان کیا ہے ) خدا تعالیٰ کے بندے کی اس کے محبوب کی طرف سے آزمائش کی جاتی ہے اسی نسبت سے اس کے اعمالِ صالحہ میں وھن اور ستی کی بجائے زیادہ شدت پیدا ہوتی ہے اور ضعف و کمزوری اور ناتوانی کی بجائے طاقت پیدا ہوتی ہے وہ اور اُبھرتا ہے جس طرح بچے ٹینس کی گیند اور ربڑ کی گیند کے ساتھ کھیلتے ہیں ( بچپن میں ہم بھی بہت کھیلا کرتے تھے اب وہ عمر گزرگئی ) جتنے زور سے گیند کو زمین پر آپ پھینکیں اتنے ہی زور کے ساتھ وہ زیادہ اونچا اُبھرے گا تو انسان جب اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی آزمائش کے لئے اور اس کے ثواب میں زیادتی پیدا کرنے کے لئے اور اپنی محبت کا زیادہ حسین رنگ میں اظہار کرنے کے لئے اپنی مخلوق میں سے بعض کو اپنے اس بندے کو زمین پر پٹخنے کی اجازت دے دیتا ہے کہ میرے اس بندے کو زمین پر زور سے پٹھو! اور جب وہ پنجا جاتا ہے تو وہ ایک کمزور ایمان والے کی طرح یا غافل کی طرح زمین کے ساتھ چپک نہیں جاتا بلکہ جتنے زور سے بیچا جاتا ہے اتنا بلند ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے تو اس آیت میں صبر کے ایک معنی یہ بتائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے پیار کرتا ہے میں اس کی آزمائش کرتا ہوں اور اس کو