خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 695
خطبات ناصر جلد پنجم گی۔وغیرہ وغیرہ ۶۹۵ خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء غرض بہت سی باتیں نواہی میں شامل کر کے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کر دیں۔ان باتوں میں سے دو کو میں اس وقت لوں گا۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (آل عمران: ۵۸) که خدا تعالیٰ ظالموں سے پیار نہیں کرتا۔اگر یہ سچ ہے اور اس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ یہ سچ ہے کیونکہ قرآنِ کریم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان سے ناراض ہو جاتا ہے تو پھر کسی احمدی کا کسی واقعہ کا رد عمل ظالمانہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے کہ یہ دنیا اور اس کے جو حوادث ہیں یا اس کے جو زوال پذیر واقعات ہیں ان کی طرف تو ہم تو جہ ہی نہیں دیتے ہماری نگاہ تو صرف ایک ہی مرکزی نقطے پر مرکوز رہتی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات جَلّ شانہ۔ہمارے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پاک ذات کے ساتھ تعلق پیدا کیا جسے قرآن کریم نے اللہ کہا ہے اور جسے ہم نے پہچانا اور اس کا عرفان حاصل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا عشق پیدا کیا ہے کہ جس کی مثال اسلام سے باہر مل ہی نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تعلق کی مضبوطی کا ایک جگہ بڑی سادگی اور آرام کے ساتھ اس طرح بھی اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا آسان ہے۔اس میں کیا مشکل ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت مل جائے کوئی مشکل ہی نہیں ہے وہ جان مانگتا ہے جان دے دو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا گہرا اور مضبوط رشتہ قائم کیا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے جس چیز کو خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور جس حقیقت کا عام اعلان قرآن کریم نہیں کرتا وہ ہمارا رد عمل نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی شخص احمدی کہلا تا ہو اور اس کا ایسا رد عمل ہو جو ظلم کی تعریف کے اندر آتا ہو اور جس کے نتیجہ میں اس شخص پر انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ کا غصہ ظاہر ہو اور وہ خدا کی محبت سے دور ہو تو وہ احمدی نہیں ہے۔چاہے وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہو۔اس لئے کسی احمدی کا کوئی رد عمل خواہ دنیا کے حالات کیسے ہی کیوں نہ رونما ہوں ایسا ہو ہی نہیں سکتا جس پر ظلم کی مہرلگی ہو۔پسے ستمبر کو ہماری قومی اسمبلی نے جو قرار داد پاس