خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 679
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۹ خطبہ جمعہ ۶ رستمبر ۱۹۷۴ء احمدیوں کا فرض ہے کہ نفسانی جذبات کو فنا کر دیں اور اپنے آپ کو طیش میں نہ آنے دیں خطبه جمعه فرمود ه ۶ رستمبر ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔پچھلے دنوں مجھے دورانِ سر کی شدید شکایت رہی۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اب کافی آرام ہے کچھ تھوڑ اسا بقایا اس کا رہ گیا ہے دعا کریں اللہ تعالیٰ بقیہ تکلیف کو بھی دور کرے۔ہمارا کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اپنے اندر بڑے عمیق اور وسیع معانی رکھتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ خلق عالمین کا منبع اور سر چشمہ بھی یہی ہے۔اس کے دوا جزاء ہیں پہلا جز ولا إلهَ إلا الله ہے۔جس کے معانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بتا کر کہ محاورہ عرب اور لغت عربی کو سامنے رکھیں تو اس کے جو معنی ہمیں معلوم ہوتے ہیں وہ چار ہیں۔ایک یہ کہ سوائے اللہ کے اور کوئی انسان کا مطلوب نہیں۔دوسرے یہ کہ بجز اللہ کے کوئی اور ہمارا محبوب نہیں اور تیسرے یہ کہ اللہ کے سوا ہمارا کوئی اور معبود نہیں اور چوتھے یہ کہ اللہ کے سوا ہمارا کوئی مطاع نہیں ہے۔مطاع کے معنوں کو اگر ہم ذہن میں رکھیں تو دوسرا جز وسامنے آجاتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ۔اگر انسان نے اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بننا ہو اور اس کے لئے اس نے کوشش کرنی ہو تو فرمانِ الہی اس کو معلوم ہونا چاہیے اور جب ہم فرمان کو معلوم کرنے کی کوشش کریں تو فرمان لانے والے کا