خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 676 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 676

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۶ خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۷۴ء دکھوں میں شریک ہوگئی لیکن جب میں نے یہ سوچا کہ اتنی سی قربانی لے کر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اربوں نہیں کھربوں روپے کا کام کر دیا تو میرا سر اس کے آستانے پر جھک گیا اور میں نے کہا اے میرے رب کریم! تیری نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ جیسا کہ تو نے خود قرآنِ کریم میں فرمایا ہے، انسان کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ ان کو گن سکے۔اس لئے جن نعمتوں کو انسان گن بھی نہیں سکتا اُن کا شکر کیسے ادا کرے گا۔پس اے خدا! تیری جتنی بھی نعمتیں ہیں ، اُن پر ہماری طرف سے شکریہ قبول کر۔ہمیں اتنی زیادہ طاقت نہیں ہے کہ تیری نعمتوں، تیرے فضلوں اور تیری رحمتوں کو ہم شمار میں بھی لاسکیں۔ہمارے ملک کی اکثریت اور بہت بڑی اکثریت نہایت شریف ہے۔وہ کسی کو دُ کھ پہنچانے کے لئے تیار نہیں لیکن ملک ملک کی عادتیں ہوتی ہیں۔کسی جگہ شریف آدمی مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور کسی جگہ شریف آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میری شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ خاموش رہوں۔جن لوگوں نے یہاں تکلیف کے سامان پیدا کئے ہیں وہ دو چار ہزار یا پانچ دس ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ اُن کو بھی ہدایت نصیب ہو۔ہمارے دل میں تو کسی کی دشمنی نہیں ہے لیکن آج ملک کو بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس لئے احباب جماعت جہاں غلبہ اسلام کے لئے دُعائیں کریں وہاں پاکستان جو ہمارا پیارا اور محبوب ملک ہے۔اپنے اس پیارے وطن کے لئے بھی بہت دُعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ ! تو اپنے فضل سے پاکستان کو ان تمام باتوں سے محفوظ رکھ جو اس کو کمزور کرنے والی ہیں یا جو اس کے استحکام میں روک بننے والی ہیں اور ہمیں وہ دن نصیب ہو کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ہمارا ملک بھی ترقی یافتہ ممالک کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو اور وہ حقوق انسانی جو اسلام نے قائم کئے ہیں وہ اس ملک میں بسنے والے انسانوں کو ملنے لگ جائیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔پس وہ اجتماعی دعا جس کا اعلان کیا گیا تھا وہ تو آج سے بند کی جاتی ہے مگر اس کے بدلہ میں انفرادی دعاؤں پر پہلے سے بھی زیادہ توجہ دیں اور پہلے سے بھی زیادہ تضرع کے ساتھ اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور پہلے سے بھی زیادہ چوکس ہو کر اور خدا تعالیٰ کی طاقتوں کی