خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 672
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۷۲ خطبه جمعه ۱۶ را گست ۱۹۷۴ء کندھوں پر ڈالی ہیں اپنی بساط کے مطابق وہ ذمہ داریاں ادا کی جارہی ہیں یا نہیں؟ پس جماعت اپنے کام میں لگی رہے یعنی تدبیر کے ساتھ اور دُعاؤں کے ساتھ غلبہ اسلام کے جہاد میں خود کو مصروف رکھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دیتی چلی جائے۔وہ خدا جو ساری قدرتوں کا مالک اور جو اپنے امر پر غالب ہے۔اُس نے جو کہا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔خدا کرے کہ ہماری زندگیوں میں ہماری کوششوں کو مقبولیت حاصل ہو اور غلبہ اسلام کے وعدے پورے ہوں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اس زمانہ میں بالخصوص ان ایام میں دُعاؤں پر بہت زور دینا چاہیے۔میں نے اجتماعی دعا کی ایک تحریک کی تھی لیکن مختلف اطراف سے ملنے والی خبروں سے پتہ لگا ہے کہ بعض جگہ وہ ایک خشک بدعت کا رنگ اختیار کر گئی ہے۔اس لئے میں آج سے اس طریق کو بند کرتا ہوں۔اب نماز مغرب اور فجر کے بعد اجتماعی دُعا ئیں نہیں ہوں گی۔مسجد مبارک میں تو میں نے مغرب کی نماز کے بعد ہدایت کر دی تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات وہیں تک محدود رہی۔دراصل اس قسم کی اجتماعی دعا سے قبل حالات پر روشنی ڈالنی چاہیے۔حالات کی نزاکت سے احباب جماعت کو آگاہ کرنا چاہیے اور وہ بشارتیں بھی بتانی چاہئیں جو جماعت احمدیہ کو غلبہ اسلام کے لئے دی گئی ہیں۔اس کے بعد اجتماعی دعا ہونی چاہیے۔سلام پھیر کر یہ کہہ دینا کہ آؤ دعا کر لیں یہ تو خشک دعا ہے اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔بہتوں کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ دعا کس رنگ میں کرنی چاہیے۔یہ سمجھ بوجھ رکھنے والوں کا کام ہے کہ وہ دوسروں کو بتائیں کہ اس طرح دعا کرنی چاہیے لیکن چونکہ دوستوں کو اس کا طریق نہیں بتایا گیا اس لئے میں اسے بند کرتا ہوں۔باقی رہا دعا کرنا، وہ تو ظاہر ہے کہ ہم اب بھی کریں گے کیونکہ دعا کے بغیر ہماری زندگی نہیں۔ہم دُعائیں کریں گے اور بہت دُعائیں کریں گے لیکن مغرب اور فجر کی نماز کے بعد اجتماعی دعا کی جو ہدایت کی گئی تھی اور اس کے مطابق جو دعا ہوتی رہی ہے وہ میرے نزدیک خشک ہو چکی ہے اس لئے میں اسے بند کرتا ہوں لیکن چونکہ دعا کے بغیر ایک احمدی کو زندگی میں کوئی لطف ہی نہیں ہے اس لئے احباب جماعت کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ