خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 655 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 655

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء ہمارے دیکھ خواہ کسی رنگ میں ہوں وہ ہماری مسکراہٹیں، مستر تیں اور بشاشتیں نہیں چھین سکتے خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج کل بعض دفعہ کام اکٹھے ہو جاتے ہیں اور آرام کا وقت جو خدائی قانون کے مطابق ضروری ہے وہ بھی نہیں ملتا۔چنانچہ گذشتہ رات بھی میں نے ایک سیکنڈ کے لئے نیند نہیں لی۔صبح کے وقت کچھ آرام کیا مگر اس سے بھی کوفت دُور نہیں ہوئی۔اس سے پہلے ایک ضروری کام کے سلسلہ میں دس بارہ گھنٹے تک لگا تار بولنا پڑا۔بہر حال جمعہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ الہی سلسلہ کے ذمہ دار امام اور اس کے درخت وجود کی شاخوں کے درمیان ایک ملاپ کا ذریعہ بنایا ہے۔اس لئے جہاں تک ممکن ہوتا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ جمعہ میں آ جاؤں اور اپنی سمجھ اور عقل اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور رحمت سے جو ضروری باتیں ہیں وہ دوستوں کے سامنے رکھوں۔اسی فلسفہ یا اصول کے مطابق میں اس وقت یہاں آ گیا ہوں اور جو آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے ( اور جو پہلی دفعہ نہیں بتارہا) کہ ہماری خوشیاں اور مسرتیں اور ہماری مسکراہٹیں کسی ذاتی خوبی یا ذاتی وجاہت یا ذاتی اثر ورسوخ یا ذاتی دولت کے نتیجہ میں نہیں بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل نے مہدی معہود کی شناخت کی توفیق عطا فرمائی اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس