خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 653 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 653

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۵۳ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء باقی دنیا کو چھوڑ میں اسے تو میں نہیں چھوڑ سکتا۔خدا تعالیٰ نے میرے دل اور میرے ذہن کا تعلق باہر کی دنیا کے ساتھ بھی باندھا ہوا ہے۔جس کو یہ کہا گیا ہو کہ بطور نائب مہدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے۔وہ ایک لحظہ کے لئے دنیا کے کسی خطہ کو بھول کسے سکتا ہے؟ اور بعض باتیں ایسی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ان کا تعلق افریقہ سے بھی۔یورپ سے بھی ہے انگلستان سے بھی ہے۔شمالی اور جنوبی خطہ ہائے امریکہ سے بھی ، جزائر سے بھی ،آسٹریلیا، انڈونیشیا وغیرہ بہت بڑی آبادیاں ہیں۔جو سینکڑوں شاہد ہزاروں جزائر پر پھیلی ہوئی ہیں۔ان کے ساتھ بھی ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جہاں بھی قانون ہو (اور میں نے بتایا ہے کہ ہر جگہ قانون ہے ) جو بھی قانونِ وقت ہو اس قانون کی پابندی کرو اور اسی میں برکت ہے لیکن اس سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری ہے صرف اس کی پابندی نہیں کرنی بلکہ اسلام کے جو احکام ہیں سارے کے سارے ماننے ہیں۔جب تک شریعت محمدیہ کے ہر حکم کا خیال رکھنے کے لئے ہمارے طبائع تیار نہیں اس وقت تک ہماری زندگیاں ( اس دنیا کی بھی اور دوسری دنیا کی بھی ) خطرے میں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ قرآن کریم قیامت کے دن تم پر قاضی ہو گا یہ قرآن بطور قاضی تمہارے حق میں یہ فیصلہ دے کہ اے اس مخلوق کے ربّ تیرے حکموں پر عمل کرنے کی اس شخص نے اپنی طرف سے انتہائی کوشش کی ہے اور خلوص نیت کے ساتھ کی ہے اور قرآن عظیم کی اس سفارش پر خدائے حکیم اس شخص کے حق میں فیصلہ دے گا۔اور آخری فیصلہ تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے دینا ہے۔اس شخص کے اعمال نے نہیں دینا۔قرآنی سفارش بہر حال اس شخص کے اعمال کے مطابق ہوگی۔لیکن جو آخری فیصلہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی صفات کے مطابق ہو گا۔پس ان احکامات کو سامنے رکھا کرو۔دنیا میں ہم یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ وقت کب آئے گا۔جب انسان انسان سے پیار کرنا اور اس کی بے لوث خدمت کرنے کا سبق سیکھے گا۔اس دنیا میں جو ہمارا اعلان ہے وہ پاکستان میں غائب نہیں ہو جاتا ( احمدی مسلمان ) جو صحیح اسلام پر قائم ہوا پہلے دن سے آج تک اس کو یہی حکم ہے کہ پیار اور محبت کے ساتھ نوع انسانی کے دل اللہ اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے