خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 642 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 642

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۲ خطبہ جمعہ ٫۵جولائی ۱۹۷۴ء ہماری نگرانی میں آجائے گا وہ ضائع نہ ہو۔ہمارا ملک غریب ہے۔ہم نے اس کے لئے انتہائی قربانیاں دیں اور انتہائی تکالیف برداشت کیں اور غریبانہ زندگی اختیار کی تاکہ ہمارے ملک کی شان وشوکت دنیا پر ظاہر ہو۔ہم نے اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس ملک کو ایک ایسا ملک بنانا ہے کہ جو دنیا کے لئے ایک نمونہ ثابت ہو۔ہمارا ملک دنیا کو ہدایت دینے والا ملک بن جائے۔دنیا اس سے ہدایت حاصل کرے کہ دیکھو یہ ملک کس طرح غربت سے اُٹھا اور ترقی کر گیا۔۴۷ء میں اس کا کیا حال تھا اور اب اپنی محنت سے کیا سے کیا بن گیا ہے۔تاہم یہ درست ہے کہ بہت سا وقت ضائع ہو گیا لیکن یہ بھی درست ہے کہ قوموں کی زندگی میں اگر دس پندرہ سال ضائع بھی ہو جا ئیں تو قو میں جب اس نقصان کو پورا کرنا چاہتی ہیں تو وہ پھر درجنوں یا بیسیوں سال کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ اپنی محنت، اپنی فراست، اپنے علم اور اپنی دعاؤں سے ( کیونکہ ہم مسلمان احمدی ہیں اور ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ) اس کمی کو پورا کرتی ہیں اور ملک کی ترقی کے سامان پیدا کرتی ہیں۔انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔غرض جیسا کہ میں نے بتایا ہے احباب جماعت نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔حکومت کے افسران سے جو اپنے اپنے علاقہ میں فتنہ وفساد کو دور کرنے کی مخلصانہ کوششیں کرتے ہیں ، اُن سے پورا پورا تعاون کرنا ہے اور وہ افسران جو اپنی فرض شناسی کے لحاظ سے غافل اورست ہیں ، اُن کے لئے واعظ اور ہادی بنتا ہے۔تم اُن سے مناسب رنگ میں یہ کہو کہ تمہارا ملک تم سے اخلاص کا مطالبہ کر رہا ہے اس لئے غفلت کو چھوڑو ، سستیوں کو ترک کرو اور ملک کی خدمت کے لئے آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔فتنہ وفساد ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے تم فتنہ و فساد کو دور کرنے کی کوشش کرو اس سلسلہ میں ہم سے جو قر بانی لینا چاہتے ہو اس سے ہم دریغ نہیں کریں گے۔اسی طرح ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کرنی ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے دعا ئیں کرنی ہیں کہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔جو لوگ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں ، ہم نے اُن کے لئے بھی دعائیں کرنی ہیں اور اس ضمن میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت