خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 641 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 641

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۱ خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۷۴ء کے مسلمان ہو تو یہ تعلیم ہے جو تمہیں دی گئی ہے تم اس پر عمل کرو۔اس میں تمہارے ملک کا فائدہ ہے۔اس میں تمہارے خاندانوں کا فائدہ ہے اور اس میں تمہارے نفسوں اور تمہاری روحوں کا فائدہ ہے۔چوتھی بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کسی کے دشمن نہیں اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارا دشمن ہے ہم اُسے غلطی خوردہ سمجھتے ہیں۔اس لئے ہم نے اُن لوگوں کو بھی پیار کے ساتھ اپنے سینے کے ساتھ لگانا ہے جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ وہ دن دور نہیں جب یہ مسئلہ اُن کی سمجھ میں آجائے گا کہ وہ بھی ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ہم تو کبھی اُن کے دشمن نہیں ہوئے اور یہ ملک جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارا ملک ہے اور وہ بڑھیا شاید انسانوں میں سے ایک ہی پیدا ہوئی تھی جس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے اپنے لئے ایک بڑی خوبصورت انگوٹھی بنوائی اور اس میں ایک قیمتی ہیرا یا پتھر لگوایا اور بڑے شوق سے پہنا لیکن اس کے ہمسائے میں اس کی ملنے والیوں، اور سہیلیوں اور دوسری عورتوں کو اس کی انگوٹھی کی طرف توجہ پیدا نہ ہوئی۔وہ بڑی پریشان ہوئی کیونکہ نمائش کی اُسے عادت تھی۔وہ بجھتی تھی کہ میں نے پیسے خرچ کر کے انگوٹھی بنوائی ہے مگر اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتا۔چنانچہ لوگوں کی اس بے تو جنگی سے تنگ آکر اُس نے ایک دن اپنے گھر کو آگ لگادی۔جب دور و نزدیک سے واقف عور تیں پوچھنے کے لئے آئیں اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تمہارے گھر کو آگ لگ گئی ہے اور بہت نقصان ہو گیا ہے تو وہ اُن سے کہتی تھی کہ سب کچھ جل گیا ہے۔بس یہی ایک انگوٹھی بچی ہے اور اس طرح اُس نے اپنی انگوٹھی کی نمائش کی۔ایسی بُڑھیا آدم سے لے کر آج تک ایک ہی پیدا ہوئی ہے۔ہم اس بڑھیا کی اولاد نہیں ہیں ہم ان ماؤں کی اولاد ہیں جو چودہ سو سال سے اسلام کی عظمت کے قیام کے لئے اپنی نسل میں اُس محبت کو پیدا کرتی رہی ہیں جو اسلام کو پھیلانے میں کارگر ہوتی تھی اور اسلام سے پیار پیدا کرتی تھی اور یہی وہ محبت ہے جس سے لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔پس وہ بڑھیا جس نے اپنی انگوٹھی کی نمائش کے لئے اپنا گھر جلا دیا تھاوہ ہماری ماں نہیں ہے۔ہم نے پاکستان کی کوئی چیز حتی کہ ایک درخت بھی ضائع نہیں ہونے دینا۔ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان کا ایک دھیلہ بھی جو