خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 638
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۳۸ خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۷۴ء وہ ہمارے ہر قسم کے عجز کے باوجود، ہماری بے بسی اور کمزوری کے باوجود وہ ہماری دُعاؤں کو قبول فرمائے گا (انشاء اللہ تعالی)۔پس ہمارے اس پیار نے ملک کو فتنہ وفساد اور نقصان سے بچانے کے لئے افسران جو کوششیں کر رہے ہیں، جماعت احمدیہ کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں اُن سے پورا پورا تعاون کرے۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں قرآن عظیم میں یہ حکم دیا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ حسنہ بھی یہی ہے کہ کسی سے دشمنی نہیں رکھنی۔اس لئے ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بنیادی نقطہ کو ہمیشہ یاد رکھے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔جو شخص خود کو ہمارا دشمن سمجھتا ہے اُس کے متعلق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی غلطی پر ہے۔اس لئے کہ آج نہیں تو کل اُسے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دراصل اس کا مقام بھی دشمنی کا نہ تھا کیونکہ کہا جاتا ہے تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔جب ہم کسی کے دشمن نہیں تو تم ایک ہی ہاتھ سے ہمارے دشمن کیسے بن جاؤ گے۔غرض ہم کسی کے دشمن نہیں، مگر یہ تو ایک منفی اعلان ہے۔اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں۔ہم ہر انسان سے ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے دل کو خدا اور خدا کے رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور پیار کے ساتھ جیتے۔اس لئے ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنی نوع انسان کے دل پیار اور محبت کے ساتھ جیتنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قدموں میں دلوں کے ڈھیر لگا دینے ہیں۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ سینوں سے نکال کر لا ڈالیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل دل تو وہ ہے جو جذبات سے پر ہوتا ہے۔لوتھڑے کا دل مراد نہیں ہے یہ تو گائے ، بھینس، بھیڑ ، بکری اور گیدڑ اور لومڑ کے اندر بھی ہوتا ہے۔جب مذہب کی زبان میں دل کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ روحانی جذبات ہوتے ہیں جن کو بعض دفعہ انگریزی میں مائنڈ (Mind) کہا جاتا ہے اور ہماری زبان میں اس کو قلب کہتے ہیں۔عربی میں بعض اور نام بھی ہیں لیکن اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔بہر حال ہم نے انسان کے دل کے سارے جذبات کو جیت کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دینے ہیں اور یہ کام پیار کے ساتھ کرنا ہے سختی سے نہیں کرنا۔ہم نے دوسروں کے