خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 624
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲۴ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء کو تیار ہیں اور راتوں کو خدا کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! ہم نے تیرے حضور کچھ بھی پیش نہیں کیا۔اس لئے کہ جو پیش کیا وہ گھر سے تو نہیں لائے تھے۔تیری ہی عطا تھی۔پھر ہم نے خدا کو کیا دیا؟ سوچیں تو سہی۔یا تو آپ نے خدا کے علاوہ کسی اور سے لیا ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا ! ہم نے لات اور عربی ( جو بت تھے اُن ) سے کچھ حاصل کیا اور تیرے قدموں میں لا ڈالا۔لیکن اگر اللہ ہی اللہ ہے اور اُس کے سوا اور کوئی چیز نہیں تو پھر تم نے خدا کے سوا کسی اور ہستی سے کچھ نہیں پایا اور جو کچھ پایا اسی سے پایا وہ اُسی کے حضور پیش کرتے ہوئے ایک عقلمند صاحب فراست مومن کی تو جان نکلتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ اے خدا ہم نے تیرے حضور کچھ پیش کیا۔کیا پیش کیا ؟ جو اُس کا تھا، جو اپنے خزانوں میں اس رنگ میں بھی رکھ سکتا تھا کہ تمہیں وہ دیتا ہی نہ ! لیکن ہمارا رب کتنا پیارا ہے جو اُسی کی دی ہوئی عطا اور اُسی کے دیئے ہوئے اموال اور اُسی کی دی ہوئی طاقت اور اُسی کی دی ہوئی فراست سے جب تم کچھ اُس کے سامنے پیش کرتے ہو تو وہ بڑے پیار سے کہتا ہے کہ دیکھو میرے بندے مجھ سے کتنا پیار کرنے والے ہیں کہ اس طرح اپنا سب کچھ میرے حضور پیش کر دیتے ہیں۔یہ تو اُس کا فضل ہے۔اس میں ہمارے لئے فخر کی تو کوئی بات نہیں۔یہ تو اُس کی رحمت ہے ہم نے اس کو کیا دیا؟ اور اُس نے ہم سے کیا لینا ہے؟ پس میں بتارہا تھا کہ جماعت کو اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ غلبہ اسلام کے لئے میں نے تمہیں بچنا اور تمہارے ذریعہ سے نوع انسانی کے دل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر میں جیتوں گا اور اس غرض کے لئے تمہیں اپنا آلہ کار بناؤں گا۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمثیلی زبان میں اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہم بندوں کی نگاہ میں جو حقیر ذرہ ہے پکڑا ہوا ہو اور خدا کہے کہ میں ساری دنیا میں اس ذرۂ حقیر کے ذریعہ تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہوں تو وہ ایسا کر دے گا کیونکہ تبدیلی پیدا کرنے والا اصل میں وہ ذرہ نہیں بلکہ تبدیلی پیدا کرنے والی اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں ہیں کہ مادی دنیا اُن طاقتوں کے اثر کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتی۔الْحُكْمُ لِلهِ۔اس دنیا پر، اس عالمین میں اللہ تعالیٰ کا حکم چلتا ہے۔اَلْعِزَّةُ لِلهِ ، اَلْمُلْكُ لِلہ۔بادشاہت اُسی کی ہے اور طاقت