خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 623
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۲۳ خطبہ جمعہ ۲۸ جون ۱۹۷۴ء اس وقت جو ہماری چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں اُن کو تکلیف بھی اُٹھانی پڑی۔بعض کی جائیدادیں بھی جلائی گئیں۔بعض کو جان کی قربانی بھی دینی پڑی اور ان کی تعداد بھی (اگر دو گھرانے ہیں تو ) دس پندرہ نفوس پر مشتمل ہو گئی لیکن اب سینکڑوں جماعتیں ایسی ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں احمدی بستے ہیں۔بعض گاؤں میں ہزار سے بھی اُو پر احمدی ہیں۔شہروں میں سے بعض جگہ ایک ایک شہر میں ہیں ہیں، پچیس پچیس ہزار احمدی بستے ہیں۔تو اگر عقل اور فراست کی نگاہ سے دیکھا جائے تو آج بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ سختیوں کا زمانہ گذر چکا اور سہولت کا زمانہ آگیا ہے۔یہ صحیح ہے کہ کچھ بچے ہیں اور کچھ احمدیت میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں اور ان کی تربیت اتنی نہیں ہوئی جتنی اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوئی تھی۔یہ تو صحیح ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ مثلاً آج سے دس دن قبل جو احمدیت میں داخل ہوا اُس نے یہ اعلان کیا کہ میں تو صداقت کو پہچاننے کے بعد اُس سے دور رہنا ایک دن کے لئے بھی برداشت نہیں کرتا۔نئے آنے والوں میں سے ایسے بھی ہیں جو پرانوں کو غیرت دلا رہے ہیں اور یہ ایک نہیں متعدد مثالیں ایسی ہیں۔کل ایک ہی دن میں مجھے تین طرف سے یہ اطلاع ملی۔اس وقت میں جب بظاہر ہر طرف سے شور مچایا گیا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس کے مقابلہ میں ایسے نوجوان نکل رہے ہیں۔ایک کو کسی نے کہا کہ تم نے تو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں اور مطالعہ کرو۔اُس نے کہا میں مہدی علیہ السلام کی جماعت سے ایک دن بھی باہر رہنا نہیں چاہتا اور وہ جماعت میں داخل ہو گیا۔بعض نے زبان سے کمزوری دکھائی ہے۔خدا کرے کہ وہ دل سے کمزوری دکھانے والے نہ ہوں۔ایسے بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قیصر کے خلاف جنگ یرموک بڑی سخت جنگ تھی۔اُس وقت اسلام کی جنگیں تلوار کے ساتھ لڑی جا رہی تھیں۔اس وقت اسلام کی جنگیں دلائل اور فراست اور آسمانی نشانوں کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے کے ساتھ اور ایثار پیشہ وجودوں کے ساتھ لڑی جارہی ہیں جو ہر قسم کی قربانی دینے