خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 614
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۱۴ خطبہ جمعہ ۲۱ / جون ۱۹۷۴ء کہ ہم مذہب کو انتظامی قوانین کے ذریعہ مٹا نہیں سکتے اور ہم کسی شخص کو مادی طاقت کے ذریعہ مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اس عقیدہ پر ایمان نہ رکھے جو اس کا عقیدہ ہے۔پس ایک دہر یہ بھی یہ جانتا ہے اور دہر یہ بھی وہ جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے ایک عظیم انسان ہے۔اس نے بڑی خدمت کی ہے وہاں کے مظلوموں کی اور ان کو استحصال سے بچایا ہے اور دنیوی حسنات کے سامان ان کے لئے پیدا کئے ہیں اور بڑی ذہانت اور عقلمندی سے پیدا کئے ہیں۔ان لوگوں کا وہ محبوب لیڈر ہے اور ہم سب کے دل میں بھی اس کا احترام ہے کیونکہ اس نے نوع انسانی کی خدمت کی ہے۔اگر چہ وہ مذہب اور خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن انسان کا وہ خادم ہے۔وہ ہے تو دہر یہ مگر وہ اخلاق پر زور دے رہا ہے اور اس حقیقت کو وہ پا گیا کہ کوئی دنیوی طاقت خواہ وہ چین جیسی بڑی طاقت ہی کیوں نہ ہو۔پاکستان تو چین جیسی بڑی طاقت نہیں ہے۔خواہ وہ چین جیسی بڑی طاقت ہی کیوں نہ ہو کوئی دنیوی طاقت قانون بنا کر اور انتظامیہ کے احکام کے ذریعہ کسی شخص کو بھی اس بات پر مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ اس عقیدہ کو چھوڑ دے جو اس کا اپنا عقیدہ ہے۔وہ کہتے ہیں کوئی طاقت ایسا کر ہی نہیں سکتی۔یہ ناممکن بات ہے۔پس پاکستانی حکومت کے لئے یہ بات کیسے ممکن ہو جائے گی۔یہ نا معقول بات ہے۔اس میں ان کو الجھنا نہیں چاہیے۔کیا کہے گا چین؟ اور کیا کہے گا روس؟ اور کیا کہے گا امریکہ؟ اور کیا کہے گی ساری دنیا ؟ اور کیا کہے گا وہ شریف انسان جو اکثریت میں ہے اور اس ملک میں بستا ہے کہ جو چیز غیر معقول ہے تمہارے اختیار میں نہیں اس کا فیصلہ کرنے کی طرف تم کیوں مائل ہورہے ہو؟ دنیا کی میں نے پہلے بات کی ہے پاکستان کی بعد میں کروں گا۔دوسرے دنیا نے یو این او میں (جس تنظیم سے صرف چند ممالک باہر ہیں ) جو ایک Human Rights (انسانی حقوق کے منشور ) کا اعلان کیا اور ہر سال انسانی حقوق کے لئے ایک دن منایا جاتا ہے۔ان حقوق انسانی کے منشور پر پاکستان نے دستخط کئے ہیں اور ان کو تسلیم کیا ہے۔ان Human Rights انسانی حقوق“ میں یہ کہا گیا ہے کہ دنیا کے ممالک مل کر یہ ضمانت دیتے ہیں کہ ہر انسان کو مذہبی آزادی ہوگی ( میں اس وقت عمد أصرف مذہبی آزادی کا ذکر کر رہا ہوں ) کس معنی میں مذہبی آزادی ہوگی ؟ ( جب میں