خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 581
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۱ خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۷۴ء والے ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتے جو غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں وہ نا مجھیوں کے نتیجہ میں غلط اعلانات کرتے ہیں۔ان کی باتیں باطل ہیں اور وہ مٹ جائیں گی۔آج جو ہمارا دشمن ہے وہ یہ حقیقت یا در کھے کہ کل وہ ہمارا دوست ہو گا۔وہ اپنے کئے پر پچھتا رہا ہوگا وہ ہم سے مصافحہ کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہو گا کہ یہ وہ قوم ہے جس کو پہچانا نہیں گیا، یہ وہ جماعت ہے جس کو دھتکارا گیا اور کمزور سمجھا گیا اور دکھ دینے کی کوششیں کی گئیں اور ایذا پہنچائی گئی اور اللہ تعالیٰ کے فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ یہی جماعت صداقت پر قائم ایک جماعت ہے۔خدا تمہیں کہتا ہے انتم الاعلون کہ بحیثیت جماعت غالب تم نے ہی آنا ہے اگر کسی جماعت کو یہ یقین ہو اگر کسی جماعت کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ خدا تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ غالب انہوں نے ہی آنا ہے اگر وہ شرائط ایمان اور شرائط اسلام پوری کرنے والے ہوں پھر ان ( کو ) کیا ڈر اور ان کو خدا تعالیٰ کے حضور قربانیاں دینے میں کیا جھجک؟ افراد تو قربانیاں دیا ہی کرتے ہیں ابتدائے اسلام میں بہتوں نے ایسی قربانیاں دیں۔جب ابھی یہ جھگڑے اور لڑائیاں مخالفین اسلام کی طرف سے شروع نہیں کی گئی تھیں مکی زندگی میں جو ظاہری حالات کے لحاظ سے کمزور زندگی تھی ( ور نہ مومن کی روحانی زندگی تو کمزور نہیں ہوتی کیونکہ ساری شیطانی طاقتوں کا وہ مقابلہ کر رہی ہوتی ہے ) بہر حال ظاہری لحاظ سے وہ کمزور تھے۔حالت یہ تھی کہ ان کی اور ہماری بزرگ مستورات میں سے بعض کو نگا کر کے ان کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ان کو ہلاک کر دیا گیا اور اس وقت کے مسلمانوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنی خاتون کی عزت کی حفاظت کر سکتے اور خدا نے کہا تھا کہ ہماری اس مخلصہ کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری تم پر اتنی نہیں جتنی تم پر اس بات کی ذمہ داری ہے کہ تم ہمارا حکم سنو اور بجالا ؤ اور تمہیں حکم یہ ہے کہ صبر اور دعا کے ساتھ ان آفات کا، ان تکالیف کا ، دشمن کے ان منصوبوں کا مقابلہ کرو۔گالی کا جواب گالی سے دے کر نہیں پتھر کے مقابلہ میں پتھر پھینک کر نہیں بلکہ پتھر کھاؤ اور صبر کرو، اور دعا کرواپنے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جو پتھراؤ کرتے ہیں۔یہ مقام ہے ایک احمدی کا اس مقام کو نہ چھوڑیں اور یہ نہ بھولیں کہ انتم الاعلون کا وعدہ اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جب اطاعت خدا اور اطاعتِ رسول کے