خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 580 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 580

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۰ خطبہ جمعہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء شامل ہوئے ہیں۔مجھے ان کا علم نہیں لیکن جو بھی شامل ہوئے ہیں وہ کم از کم دس ہزار مرتبہ استغفار کریں اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکیں اور اپنی بھلائی کے لئے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کے لئے دس ہزار مرتبہ اس سے معافی مانگیں اور اس کے حضور عاجزانہ جھکے رہیں جب تک اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہ کر دے۔دوسری بات میں جماعت کے مخلص، سمجھدار، فدائی حصہ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آگ تو بڑی شدت سے بھڑکائی گئی ہے لیکن یہ آگ نا کام ہوگی۔ان شاء اللہ تعالی ناکامی اس معنی میں نہیں کہ کسی احمدی کو بھی مختلف قسم کی قربانیاں نہیں دینی پڑیں گی۔وہ تو دینی پڑیں گی جب تک جماعت احمدیہ کے احباب وہ اور اس قسم کی تمام قربانیاں خدا کے حضور پیش نہیں کرتے جو قربانیاں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خدا کے حضور پیش کی تھیں اس وقت تک وہ ان انعامات کو بھی حاصل نہیں کر سکتے جو صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کریم سے حاصل کئے تھے لیکن دنیا کے کسی دماغ میں اگر یہ بات آئے کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی غلبہ اسلام کی اس تدبیر اور اللہ تعالیٰ کے غلبہ اسلام کے اس منصوبہ کو ناکام بنا سکتی ہیں جس غرض کے لئے کہ جماعت احمدیہ قائم کی گئی تھی تو ہمارے نزدیک وہ روحانیت سے دور ہونے کی وجہ سے نا سمجھی کے خیالات رکھنے والا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ منصوبہ نا کام ہو جائے۔قرآن کریم نے جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے اور ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور جس کے اندر کوئی دوسری چیز شامل نہیں ہوئی نہ ہو سکتی تھی اور شیطانی دخل سے اسے خدا تعالیٰ نے محفوظ کر رکھا ہے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے اور ہمارا یہ عقیدہ صرف نظریاتی عقیدہ نہیں بلکہ ہماری زندگیوں نے اس صداقت کو سینکڑوں بار مشاہدہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام بہر حال کلام اللہ ہے اور غیر اللہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے ہم علی وجہ البصیرت اپنی زبان سے بھی ، اپنے عمل سے بھی ، اپنے جذبات سے بھی ، ہم اپنی روح کے ہر پہلو سے دنیا میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس خدا کے کلام میں غیر اللہ کو کوئی دخل نہیں ہے اور یہ کلام ہم میں سے ہر ایک کے کان میں بڑے پیار کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے۔انتم الاعلون آخر کا رتم ہی غالب رہو گے۔جو خدا تعالیٰ سے دور ہونے