خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 39
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۳ء جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کے بیشمار جلوے ظاہر ہو چکے ہیں خطبه جمعه فرموده ۹ فروری ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ دنیوی زندگی امتحان اور ابتلا کی زندگی ہے۔کبھی ہمارا رب بخشش کرتا ، عطا کرتا ، دیتا اور دیتا ہی چلا جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ہم نے اس کی عطا کو کیسے اور کس رنگ میں خرچ کیا۔دنیوی نعمتوں کے نتیجہ میں ہمارا دماغ کہیں بہک تو نہیں گیا دنیا نے دنیوی متاع کے سبب ہمیں اپنی طرف تو نہیں کھینچ لیا اور اللہ تعالیٰ سے ہمارا بعد تو نہیں پیدا ہو گیا۔خدا کے بندے(اگر ساری دنیا بھی خدا کے بندوں کے قدموں میں ڈھیر کر دی جائے ) اپنے دل اور اپنی روح کا تعلق اپنے ربّ کریم سے قطع نہیں کرتے۔اور کبھی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ آزمائشیں بھی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تکلیف کے وقت میرے بندے مجھ سے منہ تو نہیں موڑ لیتے اور وہ اس وقت ثبات قدم دکھاتے ہیں یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ان حالتوں میں مُهْتَدِی یعنی ہدایت یافتہ وہ شخص یا وہ جماعت ہوتی ہے ( یعنی سیدھی راہ پر چلنے والی اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فلاح کو حاصل کرنے والی جماعت ) جن پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں تسلسل کے ساتھ