خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 561
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۱ خطبہ جمعہ ۱۷ رمئی ۱۹۷۴ء کو عظیم بشارتیں دی گئیں اور ایسے وقت میں دی گئیں جب کہ غربت کا زمانہ تھا۔مسلمان ایک ایسی جنگ میں گھرے ہوئے تھے جسے ہماری تاریخ جنگ احزاب کے نام سے یاد کرتی ہے احادیث میں آتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوک کے احساس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذریعہ آپ کے صحابہ کو بشارت یہ دی گئی کہ کسریٰ اور قیصر کی سلطنتوں پر اسلام غالب آئے گا۔چنانچہ بعد میں مسلمان کسری اور قیصر کی سلطنتوں پر غالب آئے۔جس طرح چند سال پہلے امریکہ اور روس دنیا کی دو عظیم سلطنتیں کہلاتی تھیں اسی طرح اُس زمانے میں کسرئی اور قیصر کی دو عظیم سلطنتیں تھیں۔اب دیکھو مسلمانوں کو کھانے کو میٹر نہیں تھا مگر ان کو بشارت دی گئی تھی کسری اور قیصر کی دو عظیم سلطنتوں پر اسلام کے غالب آنے کی۔چنانچہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان ان کی دولت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کسری اور قیصر کے پاس جو د نیوی حسنات ہیں وہ مسلمانوں کو ملیں گی۔اس موقع پر یہ بشارت دینا گویا مسلمانوں کو یہ سبق سکھانا تھا کہ جو قربانیاں تم دے رہے ہو اس سے زیادہ ہماری طرف سے تمہیں بشارتیں دی گئی ہیں اور تمہیں یہ چیزیں ملنے والی ہیں۔اُمت محمدیہ میں بڑا ہی عظیم وہ گروہ ہے جس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت حاصل کی۔اُمت مسلمہ کی زندگی سنوارنے اور اُمتِ مسلمہ کے محلوں کی بنیا دوں کو مضبوط بنانے اور ان کو مضبوط کرنے اور پھر اُن پر اسلام کے عظیم قلعے بنانے کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا اور بڑی عظیم بشارتوں کے وارث بنے چنانچہ انہیں جب بھی بشارتیں ملتی تھیں اُن کو تسلی ہو جاتی تھی اور وہ یقین رکھتے تھے کہ یہ اپنے وقت پر پوری ہو کر رہیں گی مگر ان کے بعد میں آنے والوں نے اُن قلعوں پر جو منزلیں تعمیر کی ہیں ان منزلوں کی تعمیر کے لئے ویسی ہی قربانیوں کی ضرورت نہیں پڑی جیسی قربانیوں کی بنیادوں کو قائم کرنے اور اُن کو مضبوط کرنے اور ابتدائی عظیم قلعوں کی تعمیر کے لئے شروع میں ضرورت پڑی تھی۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور بشارت دی گئی تھی اور وہ یہ تھی کہ آپ کی بعثت کا