خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 549
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۹ خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۷۴ء ذمہ واریاں ڈالی جائیں گی اور اس کے لئے اُس نے طاقت دے دی اور اس عطا کردہ طاقت نے ہمیں یہ بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں اور ہاں اس حقیر جماعت اس دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت اس بے کس جماعت اس جماعت کو جس کو ہر طرف سے ایڈا کی باتیں سننی پڑتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر اتنا فضل کیا کہ اس کو تین سال کے اندر پہلے سے ہیں گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ طاقت عطا کی ہے۔یہ اُس کا فضل ہے۔اس کی وجہ سے ہمارے دل اُس کے شکر سے معمور ہیں اور ہماری زبانیں اُس کی حمد کے ترانے گا رہی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قدر فضل جماعت احمدیہ پر کر رہا ہے اُس کا شکر نہ فرد کے بس کی بات ہے نہ جماعت کے بس کی بات ہے لیکن جس قدر ہم حمد کر سکیں اور اُس کا شکر کر سکیں وہ تو ہمیں کرنا چاہیے یعنی حمد اور شکر کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق انتہا تک پہنچانا ہمارا فرض ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ زندگی بھر بھی جتنے اُس کے فضل ہو چکے ہیں ان کا حمد اور شکر نہیں کر سکتے۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عام انسانوں کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے اور اس بھلائی کے لئے جو مختلف منصوبے جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیئے جاتے ہیں اور جماعت لبیک کہتی ہے اور قربانیوں کے لئے آگے بڑھتی ہے۔اس میں سے ایک چھوٹا سا منصوبہ ”وقف عارضی ہے۔وقف عارضی والوں کو اور سائیکل چلانے والوں کو میری نصیحت ہے ( میں مختلف رنگوں میں بات کیا کرتا ہوں بہر حال ) جو بنیادی چیز ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں خادم بنایا گیا ہے اُخْرِجَتْ لِلنَّاس کا مفہوم بھی خدمت کی طرف اشارہ کرتا ہے لوگوں کی بھلائی اور خیر خواہی اور ان کی خدمت اور ان کے دکھوں کو دُور کرنے اور اُن کو سکھ پہنچانے کے لئے اُمت محمدیہ پیدا کی گئی ہے پس خادم کے لئے اگر اُس نے صحیح خدمت کرنی ہو تو یہ ضروری ہے کہ اپنے مخدوم کی ضرورتوں اور دکھوں کا اور جس رنگ میں اُس کو خوشیاں اور سکھ پہنچایا جاسکتا ہے پہنچایا جانا چاہیے اور ان حالات اور ذرائع کا علم ہونا چاہیے۔اگر علم نہیں تو خدمت نہیں ہو سکتی پس خادم کا مخدوم کے ساتھ قریبی تعلق ہونا ضروری ہے اور مخدوم ہیں ساری دنیا کے انسان اور خادم