خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 548

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۸ خطبہ جمعہ ۳ رمئی ۱۹۷۴ء او پر نکل چکے ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِكَ اور ابھی تیره بیرونی ممالک کے وعدے ہمیں نہیں پہنچے۔ان کا انتظار ہے اور جب مجھے یہ رپورٹ ملی ہے اُس کے بعد بھی کئی لاکھ کے وعدے آچکے ہیں جو میرے علم میں ہیں لیکن میں نے ان کو شامل اس لئے نہیں کیا کہ بعض دفعہ دو جگہ اطلاع آجاتی ہے۔ممکن ہے انہیں پہلے اطلاع ہوگئی ہو اور مجھے بعد میں ملی ہولیکن جو وعدے دفتر کے رجسٹر کے مطابق پہنچے ہیں وہ دس کروڑ سترہ لاکھ سے اوپر جاچکے ہیں اور ہمارے دل اس وجہ سے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہیں۔کل میں نے اپنے بچوں سے (ان کی تربیتی کلاس کے اختتام کے موقع پر ) کہا تھا کہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نئی ذمہ داریاں اپنی قائم کردہ جماعت یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر ڈالی ہیں تو اس سے ہم قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ نئی ذمہ داریاں اُمت محمدیہ کو جماعت احمدیہ کو بحیثیت مجموعی نئی طاقتیں بھی عطا کریں گی کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا کہ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ ذمہ واری نہیں ڈالی جاتی۔تو نئی ذمہ داریاں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ کچھ نئی طاقتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُس کے بندوں کو اور اس کی جماعت کو ملیں گی اور جب کسی نئی طاقت کا مظاہرہ ہم دیکھتے ہیں مثلاً یہی کہ سن ۷۰ء میں جماعت نے ایک منصوبہ کے لئے صرف ۵۳ لاکھ کے وعدے کئے اور پھر اپنے وقت میں وہ وعدے پورے کر دیئے۔اس کے مقابلہ میں تین ساڑھے تین سال کے بعد جماعت کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت عطا کی ( جو پہلی طاقت کے مقابلہ میں ہیں گنازیادہ ہے ) کہ دس کروڑ سے زیادہ مالی قربانی میں دے دے ویسے تو جماعت کی جد و جہد اور کوشش مالی قربانی کے مقابلہ میں دوسرے میدانوں میں بیسیوں گنا زیادہ ہے لیکن یہ ایک چیز ہم لیتے ہیں جو ایک نشان دہی کرنے والی چیز ہے۔ہیں گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تین سال کے بعد مالی میدان میں اپنی حقیر قربانیاں اپنے رب کے حضور پیش کرنے کی طاقت دے دی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اس تین سالہ عرصہ کے بعد ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں جب ہم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۷۰ ء کے مقابلہ میں بیس گنا زیادہ