خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 545
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۵ خطبہ جمعہ سرمئی ۱۹۷۴ء حمد اور شکر کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق انتہا تک پہنچانا ہمارا فرض ہے خطبه جمعه فرموده ۳ رمئی ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی:۔رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِ - ( الصُّفت : ٦ ) پھر حضور انور نے فرمایا:۔جہاں کہیں بھی روشنی کی کرن چمکتی ہے اُس کا منبع رب المشارق ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔طلوع ٹور مختلف شکلوں میں اس دُنیا میں نظر آتا ہے۔سورج کا طلوع ہے، چاند کا نکلنا ہے۔تاروں کی چمک ہے۔چہروں پر مسکراہٹوں کا آنا ہے دلوں میں بشاشت کا پیدا ہونا ہے یہ سب نور ہیں۔نور سے ان کا تعلق ہے اور سب کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو رب المشارق ہے۔اہل پاکستان ایک لمبا عرصہ تک امتحان اور ابتلا میں مبتلا رہے۔ایک جنگ ہوئی ایک عالمگیر سازش کے نتیجہ میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے اور مشرقی حصہ میں ہماری افواج اور پولیس اور شہریوں میں سے قریباً ۹۰ ہزار قیدی بنالئے گئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حصہ میں جو مغربی پاکستان تھالا کھوں خاندان اور گھرانے ایسے تھے جنہوں نے ایک لمبا عرصہ پریشانی میں اپنے دن گزارے اور انہیں یہی احساس تھا کہ کچھ روشنیاں اُن سے چھین لی گئیں اور اللہ تعالیٰ