خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 543
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۴۳ خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۷۴ء یعنی چوری کے ذریعے مال کو حاصل کر لیا یا رشوت کے ذریعہ حاصل کیا یا کر پشن (Corruption) کے ذریعے حاصل کر لیا یا ذہنی بددیانتی کے ذریعہ حاصل کر لیا غرض ہزار قسم کی غلط راہیں ہیں جن پر انسان بہک جاتا ہے اور اپنی جہالت سے اُن کو اختیار کر لیتا ہے لیکن اسلام نے ہمیں یہ کہا کہ ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ہر چیز میں بے شمار خاصیتیں رکھی گئی ہیں۔گویا اس کا ئنات کی ہر چیز انسان کی خدمت پر لگا دی گئی ہے۔مگر یہ پکے ہوئے پھل کی طرح کسی آدمی کی گود میں آکر نہیں گرے گی پکا ہوا پھل بھی گود میں نہیں گرتا اس کے لئے بھی بسا اوقات درخت پر چڑھنا پڑتا ہے۔اُسے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اس لئے فرمایا تم جتنی کوشش کرو گے اس کے مطابق اشیاء سے خدمت لے لو گے لیکن ساتھ ہمیں یہ بھی کہہ دیا ( ہمارا ربّ بڑا پیار کرنے والا ہے ) کہ میری مخلوق سے خدمت تم لے سکتے ہو صحیح ذریعہ سے بھی اور خدمت تم لے سکتے ہو غلط ذرائع کو اختیار کر کے بھی۔فرمایا غلط ذرائع کو اختیار نہ کرنا۔جو جائز اور ٹھیک ذرائع ہیں جن کو دینی اصطلاح میں صراط مستقیم کہا جاتا ہے اُن کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرو گے تو کس نتیجہ پر پہنچو گے۔اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةٌ وَبَاطِنَةً (لقمان: ۲۱) اللہ تعالیٰ نے اس عالمین کی ہر چیز کو تمہاری خدمت پر لگا دیا اور تمہارے اندر طاقتیں پیدا کیں کہ تم اس کی مخلوق سے فائدہ حاصل کر سکو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں صراط مستقیم کو کھول کر بیان کر دیا اور تمہیں اس قابل بنا دیا کہ نہ صرف یہ کہ تم بے شمار نعمتوں کے وارث بنو بلکہ اس مقام تک بھی پہنچو کہ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً دُنیا میں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔کسی انسان نے اپنی ول پاور (Will Power) اور خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل نہیں کیا۔پس خدا تعالیٰ کی یہ بے شمار نعمتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم خدا کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیاں گزاریں اور خدا تعالیٰ کے مزید فضلوں کے وارث بنیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )