خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 524

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۲۴ خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۷۴ء اور ایک اُس دنیا کی زندگی اس لئے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ہمیں سکھا یا لیکن اُس دنیا میں ایک ہی زندگی ہے یعنی جنت کی زندگی اور اس میں امتحان نہیں ہے لیکن ترقیات ہیں اس لئے وہ ایک ہی قسم کے اعمال ہیں۔وہ اعمال شکر بھی ہیں اور مزید ترقیات کے حصول کے بھی ہیں یہاں فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جو دعا ہے وہ شکر کے لئے ہے اور ناکامیوں سے بچنے کے لئے بھی ہے کہ جو تو نے دنیا کی نعمتوں کے حصول کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں توفیق دے کہ ان پر تیرا شکر ادا کر سکیں اور کبھی محروم نہ رہ جائیں۔بہر حال یہ مومن کی زندگی کی تصویر ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جب حقیقی مومن بن جاتا ہے تو اس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ استقامت اور صراطِ مستقیم قریباً ایک مفہوم میں استعمال ہو جاتے ہیں۔پس استقلال کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ کام کرتے چلے جانا یہ مومن کی زندگی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ہم نے یہاں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے ماتحت کام شروع کیا درخت لگانے کا پانی مہیا کرنے کا اور نہ صرف یہ کہ اس کام میں آگے ہی آگے بڑھنا چاہیے بلکہ اس سلسلہ میں جو حرکت ہے اُس میں سستی نہیں پیدا ہونی چاہیے لیکن سستی پیدا ہو جاتی ہے۔انسان بھول جاتا ہے اسی لئے دعا سکھائی کہ جو ہم بھول جائیں اس پر ہماری گرفت نہ کر اور جوغلطی ہم کر جائیں تو اس کے کفارہ کے سامان ہمارے لئے پیدا کر دے میں کچھ عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں کہ جو ہم نے یہاں درخت لگانے کا کام شروع کیا تھا اور پانی کی جو ضرورت تھی۔اُسے پورا کرنے کے لئے ٹیوب ویل لگانے کا پروگرام بنا تھا اور یہ مشترکہ کوشش یعنی نظام کی کوشش اور اہل محلہ کی رضا کارانہ کوشش کا پھل ہم نے حاصل کرنا تھا۔اس میں کچھ کمی واقع ہوگئی ہے میرے علم کے مطابق اس منصوبہ کے ماتحت تین کنوئیں لگ چکے ہیں اور ایک ابھی اپنی آخری شکل میں نہیں آیا یعنی وہاں ٹینکی نہیں بنی اور محلہ دارالیمن کے غربی حصّہ میں پانی کی تکلیف ہے اور دوسرے اس محلہ میں جہاں ہمیں پانی ملا ہے وہ دریا کے قریب کا علاقہ ہے اور وہ محلہ پہاڑی کے دامن کے ساتھ ساتھ درہ تک پھیلا ہوا ہے وہاں میں نے سروے وغیرہ کروایا تھا۔میں نے کہا تھا کہ وہاں جائزہ لو اور دیکھو