خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 510 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 510

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۱۰ خطبه جمعه ۱٫۵ پریل ۱۹۷۴ء نیچے جانے کی طاقتیں ہوں یا بلند ہونے کی طاقتیں ہوں ، انسان ہر دو طاقتوں سے دُنیوی فوائد حاصل کرتا ہے۔وہ سمندر کی گہرائیوں میں بھی اُترتا ہے اور چاند کی بلندیوں پر کمندیں بھی ڈالتا ہے اور اس طرح وہ اپنے علم میں اضافہ کرتا اور مختلف فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جہاں تک روحانیت، رُوحانی رفعتوں کا سوال ہے بعض انسان اپنی فطرت کو بھول جاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص دائرہ میں صاحب اختیار بنایا ہے اس لئے وہ بعض اوقات فطرت صحیحہ اور قلب سلیم کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے رفعتوں سے دُور نشیب یعنی تنزل کی طرف حرکت کرتا ہے۔قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے۔وکو شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) گویا خُلُود الَى الْأَرْض کی طاقت ہلاکت کی طرف لے جانے والی ہے اور انسان چونکہ صاحب اختیار ہے اس لئے وہ بعض اوقات ہلاکت کی راہ کو اختیار کر لیتا ہے لیکن۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کی رُو سے ظاہر ہے کہ انسانی فطرت کو اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ رفعتوں کی طرف پرواز کرے۔رُوحانی طور پر بلند ہوتے ہوئے دنیا کی ہر مخلوق کو پیچھے چھوڑ دے اور اپنے رب کریم تک پہنچ جائے اور اس کا قرب حاصل کر لے۔ہم پانی کی مثال لیتے ہیں اگر چہ میرے نفس مضمون سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن ہمیں اس کا علم ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جاری کیا ہے اور وہ یہ کہ سمندروں سے بخارات اُٹھتے ہیں۔ہوا اُن کو اُڑا کر لے جاتی ہے پھر ایک خاص نظام کے ماتحت وہ بخارات بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہے وہاں برستے ہیں اور دریاؤں میں پانی آجاتا ہے۔بادل عموماً مخلوق کے فائدہ کے لئے برستے ہیں تاہم بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق بعض لوگوں کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔پھر برف باری ہوتی ہے اور قدرتی ریزروائر (Reservoir) میں پانی اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر موسموں کی تبدیلی کے ساتھ وہ پگھلتا ہے اور دریاؤں میں بہنے لگتا ہے۔بہر حال میرے مضمون کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ دریاؤں میں پانی