خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 503
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۰۳ خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء تصدیق کا۔میں ایک ہی چیز کو لے لیتا ہوں۔اس کے دو مختلف نتائج نکلتے ہیں جن پر میں نے مختصراً روشنی ڈالی ہے۔یہ اس لئے تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کے پیار کو فرشتوں سے بھی زیادہ حاصل کر سکے۔مومنانہ دل کی کیفیت یہ ہے کہ وہ حق کو حق تسلیم کرتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے اس کو اپنا تا ہے۔اُس سے پیار کرتا ہے اپنی فطرت کو بالکل اُس کے موافق پا تا اور اُسی کے مطابق اپنی زندگی ڈھالتا ہے۔وہ حق کو پہچاننے کے بعد حق کا ہو جاتا ہے اور کسی اور کی طرف اُس کی توجہ باقی نہیں رہتی۔یہ مومنانہ دل ہے اور یہ دل کی اصل کیفیت ہے۔یہ جڑ ہے اس سے دو شاخیں نکلتی ہیں۔ایک شاخ بیان کی طرف نکلتی ہے اور پھر ایسے مومن کا بیان جو کچھ اُس کے دل نے محسوس کیا اُس کا اعلان وہ قولِ سدید سے بھی کرتا ہے قولِ طیب سے بھی کرتا ہے اور اسلام کی تعلیم کے مطابق سچ کے عام معیار سے او پر بھی نکلتا ہے اور پھر اُس کا بیان دنیا میں ایک طبیب انقلابی تحریکیں پیدا کرتا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والے انقلابی نتائج پیدا کرتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایک دنیا کو لے جانے والا بن جاتا ہے۔دوسری شاخ جو اس اصل سے نکلتی ہے وہ اعمال کی شاخ ہے۔قلب سلیم سے عمل صالح کی شاخ نکلتی ہے یعنی ہر وہ عمل جو اُس دِل سے موافقت بھی رکھتا ہو اور اُس کے ذریعہ سے حق سے موافقت رکھتا ہو۔حق کے ایک معنی اللہ کے بھی کئے گئے ہیں۔حق کے معنی ہیں قائم رہنے والی چیز۔خواہ وہ ابدی قائم رہنے والی چیز ہو۔ایک حقیقت تامہ کا ملہ مستقلہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یا خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق عارضی طور پر قائم رہنے والی اور بعض پہلوؤں سے تبدیل ہو کر بھی اپنے وجود کو قائم رکھنے والی چیزیں اُس کی مخلوقات میں ہمیں نظر آتی ہیں۔جہاں تک شریعت کا سوال ہے حق کو تسلیم کرنا مختلف پہلو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ایسا دل شریعت حقہ کو سمجھتا اور اُسے قبول کرتا ہے اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے ایسا دل بشاشت سے تعلیم حق کو پہچانتا اور قبول کرتا ہے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے۔ایسا دل بشاشت سے تعلیم حق کو پہچانتا اور قبول کرتا ہے جیسا کہ کہا گیا ہے کہ جو رسول کی طرف نازل کیا گیا اُس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ایمان کے یہی معنی کئے گئے ہیں کہ جب یہ تین کیفیتیں پیدا ہو جا ئیں اصل اور بنیاد یہ کہ دل میں تصدیق حق کرنے کی کیفیت ہو اور انسان کی جو قوتِ اظہار و بیان ہے