خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 31

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۱ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء ان میں مٹی ( بھل ) ڈال دی جائے۔پھر جس قسم کی کھاد درختوں کے لئے موزوں ہوتی ہے مہیا کی جائے۔درختوں کے لگانے کے بعد ان کی حفاظت کی جائے جو بچے درختوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کو وہاں کا نگران بنادیا جائے۔آپ ان سے کہیں کہ تم ان درختوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہو جتنے درخت لگیں گے ان میں سے نصف تو آپ نے انشاء اللہ ضرور پالنے ہیں۔ان ۵۰ فیصد میں سے جتنے درخت آپ نہ پال سکیں مثلاً کسی جگہ سو درخت پلنے ہیں ( دوصد میں سے ) ان میں سے آپ ۹۵ فیصد کو پال سکے ہیں اور ۵ ضائع ہو گئے ہیں تو آپ آپس میں مشورہ کر کے یہ فیصلہ کریں کہ آپ اہل محلہ اپنے اوپر دس روپے فی درخت اجتماعی جرمانہ ادا کریں گے اور اس طرح جو رقم جمع ہوگی وہ شجر کاری ہی پر خرچ ہوا کرے گی۔پس تمام محلوں کے صدر صاحبان کو میں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آج شام کو اپنی مجالس عاملہ کو اکٹھا کر کے باہمی مشورہ سے اپنے اپنے حالات کے مطابق یہ طے کر لیں کہ پچاس فی صد میں سے ضائع ہونے والے درختوں پر فی درخت دس روپے یا ساڑھے نو روپے یا سوا نو روپے یا نورو پے دو آنے تک محلہ جرمانہ ادا کرے گا۔حالات کے مطابق میرے مشورہ سے تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔دوسرے مجلس صحت کے نگران کو چاہیے کہ وہ تین ہزار کی بجائے دس ہزار درختوں کے منگوانے کا انتظام کریں۔حکومت پانچ پیسے فی درخت یعنی پانچ روپے فی سینکڑہ کے حساب سے درخت دیتی ہے۔یہ بڑا سستا سودا ہے۔تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست یا کچھ محلے ایسے ہوں جو اتنی رقم بھی خرچ نہ کر سکتے ہوں لیکن اگر وہ یہ فیصلہ کر لیں کہ درخت ضائع ہونے کی صورت میں وہ نو دس روپے جرمانہ ادا کریں گے تو ہم ان کو شروع میں درخت مفت دے دیں گے اگر وہ ہم سے زائد قیمت پر درخت خرید لیں تو پھر ان کو جرمانہ نہیں ہو گا جو انہوں نے خود ہی اپنے اوپر عائد کرنا ہے۔پھر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے چونکہ زیادہ پیسے دے کر درخت خریدے ہیں اور گویا شروع میں جرمانہ ادا کر دیا ہے اس لئے اب ہم سے نہ لو۔بہر حال درخت لگنے چاہئیں سڑکوں کے کناروں پر اور کھلے میدانوں میں ہر جگہ درخت لگنے چاہئیں۔فی الحال اُن جگہوں پر بھی درخت لگادیں جہاں مثلاً کسی کا مکان بننے والا ہے۔اس