خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 487
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۷ خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۷۴ء کسی اور طرف توجہ نہیں کرتی ( کسی اور میں اس کا اپنا نفس بھی شامل ہوتا ہے ) وہ کبھی نا کام نہیں ہوتی۔غرض خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا دل میں پیدا ہو جانا اور اس سے پیار کا اتنا بڑھ جانا کہ خود اپنے نفس کو بھی کوئی چیز نہ سمجھنا اور دنیا کی طاقتوں کو خیر کا منبع تسلیم نہ کرنا۔یہ وہ صلاحیتیں ہیں، یہ وہ اخلاق ہیں اور یہ وہ باتیں ہیں جن کی موجودگی میں انسانی فطرت نا کام نہیں ہوا کرتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے یہی حالت آپ کی جماعت کی ہے جو آپ کے نقش قدم پر غلبہ اسلام کے لئے کوشاں ہے۔تا ہم غلبہ اسلام کا منصوبہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل خدا تعالیٰ نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈال دی ہے۔ظاہر ہے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس وقت آدھی سے زیادہ دنیا خدا کی منکر ہو چکی ہے۔آدھی سے کچھ کم دنیا بظاہر مذہب کا نام لیتی ہے مگر در حقیقت مذہب کی روح سے نا آشنا ہے۔وہ یہ جانتی ہی نہیں کہ مذہب کیا چیز ہے۔وہ مذہب اور وہ شریعت اور وہ ہدایت جو خدا کے عاجز بندوں کو خدا تک پہنچاتی ہے وہ صرف اسلامی شریعت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے بھی کتنے ہیں جو اسلام کی شان اور قرآن کریم کی عظمت کی معرفت رکھتے ہیں۔یہ شرف صرف ایک چھوٹی سی جماعت کو حاصل ہے کہ جو اگر چہ دنیا کی دھتکاری ہوئی ہے۔جس کی دنیا کی نگاہ میں کوئی عزت نہیں جس کے خزانوں میں دنیا کی دولتیں نہیں جس کے پاس سونا اور جواہرات نہیں جس کے پاس سونا اُگلنے والی زمینیں نہیں لیکن پھر بھی اس یقین پر قائم ہے کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے اور انسان کو زندہ خدا کی طرف واپس لے جانے کی جو کوشش اور جد و جہد ہو رہی ہے اس میں بالآخر یہی جماعت کامیاب ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو“ کہہ کر جماعت کو مخاطب فرمایا ہے۔اس لحاظ سے جماعت احمد یہ گویا حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے درخت وجود کی مختلف شاخیں ہیں۔اصل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہے۔یہ آپ ہی کا درخت ہے جو قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا لیکن نئی شاخیں نئے تنے بنیں گی