خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 482

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۲ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء ملے گا۔تو ہم اپنے وعدہ کی بنیاد پچاس ہزار روپے مہینہ پر رکھیں یا تین ہزار روپیہ ماہوار آمد پر رکھیں جس نے مجھ سے یہ سوال کیا تھا اس کو میں نے یہی سمجھایا تھا کہ آپ وعدہ کر دیں پچاس ہزار روپے کی بنیاد پر اور پچاس ہزار میں سے تین ہزار روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ کر دیں اور دوسال کے بعد آپ کو تین ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ملنے لگے وہ آپ اِ دھر دے دیں اور گھر میں گزارے کے لئے کچھ نہ ہو اور خدا آپ کو یہ کہے کہ سارے کے سارے پیسے دے دو۔یہ بات تو نہیں ہے پس تم پہلے کہہ دو کہ حالات کے مد نظر دو سالوں میں میں اتنا دوں گا اور اس کے بعد جو نئے حالات پیدا ہوں گے اس کے مطابق میں رقم کی تعیین کردوں گا۔یا تین ہزار جو عام آمد ہے اُس کے مطابق یہ وعدہ کرو اور ساتھ یہ کہو کہ جن سالوں میں میری آمد بڑھ جائے گی اُسی نسبت سے جو آمد اور اس موجودہ وعدہ کی ہے میں اپنا وعدہ بڑھا دوں گا یا اس نسبت میں کمی یا زیادتی کر دوں گا یہ کوئی ایسی تکلیف نہیں ہے جس کا حل نہ ہو۔اس ضمن میں اس سے ملتی جلتی شکل یہ سامنے آتی ہے کہ ایک آدمی تین چار ہزار روپے تنخواہ پارہا ہے اور دو سال یا پانچ سال بعد اُس نے ریٹائر ہو جانا ہے پھر تو اُسے پنشن ملے گی۔یہ سارے حالات سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنی نیت میں اخلاص پیدا کریں تو قطعاً آپ کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔اپنے بدلے ہوئے حالات کے مطابق خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دیتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے آپ کے لئے کھلتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔قرآن کریم نے خیر کے مقابلہ میں بڑی خیر کا وعدہ دیا ہے اور بعض جگہ تو کہہ دیا کہ اتنے گنا زیادہ ثواب ملے گا اور بعض جگہ حد نہیں مقرر کی اور صرف یہ کہا کہ اس سے زیادہ ثواب ملے گا۔اب زیادہ جو ہے وہ ۵۰ فیصد بھی زیادہ ہے اور پچاس کروڑ فی صد بھی زیادہ ہے یعنی ایک نیکی کے مقابلہ میں پچاس لاکھ گنا ثواب بھی زیادہ ہے اللہ تعالیٰ نے بڑی امید دلائی ہے اور بڑا تو گل دل میں پیدا کیا ہے اور بڑی بشاشت دل میں پیدا کی ہے۔اصل میں تصور یہ ہمیں دیا گیا کہ انسان کی قربانی کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا کی کوئی حد بست ہی نہیں ہے۔اخلاص پیدا کرتے چلے جاؤ اور اُس کی رحمتوں سے حصہ لیتے چلے جاؤ۔پس اس قسم کی