خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 481
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۸۱ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۷۴ء صد سالہ جو بلی فنڈ کا ہے وہ سال کے ابتدا میں ادا کر دے گا کیونکہ وہ اس سال میں داخل ہو گیا جس کا کچھ حصہ اس نے زندگی کے دن گزارے۔اگر وہ سال کے بیچ میں فوت ہو جائے یا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ اتنا میں دینا چاہتا ہوں مثلاً ایک شخص ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میرے حالات ایسے ہیں کہ میں سوروپیہ سالانہ دے سکتا ہوں۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سولہ سال کا چندہ ( یونٹ تو سولہ سال ہے اگر چه سولہ سال پورے تو نہیں پندرہ ہیں ) میں سولہ سور و پیر دے سکتا ہوں اور نیت میری یہی ہے لیکن میں وعدہ پہلے دو سال کے یونٹ کا کرتا ہوں۔دوسو روپیہ میں اب دوں گا اور ہر سال میں وعدہ کی تاریخ کے لحاظ سے یکم تاریخ کو وعدہ کروں گا اور ادائیگی کرتا چلا جاؤں گا۔یہ بھی ایک شکل ہے ویسے یوں ہونا چاہیے کہ جس میں جتنی ہمت ہے آج وہ ادا کرے جو بڑی عمر کے ہیں یا سخت بیمار ہیں وہ اپنا وعدہ کریں اور سال کے شروع میں ادا کر دیں۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کو اللہ تعالیٰ سولہ سال کی ادائیگی کا ہی ثواب دے دے گا کیونکہ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔اور جو نیت ہے اس نیت کا اخلاص انسان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس بات کا مستحق قرار دیتا ہے کہ وہ اپنی رحمت کا دروازہ ایسے شخص پر کھولے (سوائے اس کے کہ کوئی اور مصلحت خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو ) اور اُسے ثواب اتنادیدے جتنی اُس کی نیت ہے۔پس سولہ سال کی نیت کرو اور آگے ادا ئیگی جس شکل میں بھی کر و ثواب تمہیں مل جائے گا۔گناہ نہ تمہیں ہوگا نہ تمہارے وارثوں کو۔ایک اور شکل سامنے آئی وہ یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص ہے وہ بڑا ذہین ہے اس نے بڑی ترقی کی اور ملازمت کے سلسلہ میں وہ آگے نکلا۔دو تین ہزار روپے ماہوار اس کی تنخواہ تھی۔یکدم اُس کو موقع مل گیا کہ وہ ورلڈ بینک یا یو این او (U۔N۔O) یا اس قسم کی جو بین الاقوامی تنظیمیں ہیں ان میں سے کسی میں چلا گیا ایسی تنظیمیں بہت پیسے دیتی ہیں پیسے تو وہ بہت دیتی ہیں لیکن ان کا معاہدہ ایک وقت میں دو سال کا ہوتا ہے۔ایسے بھی متعدد آدمی ہیں میرے خیال میں ایک درجن سے زیادہ ہوں گے جوان بین الاقوامی تنظیموں میں ہیں۔ان کو بہت پیسے مل رہے ہیں ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم کس طرح اندازہ لگائیں اور اپنے وعدہ کی بنیاد کس آمدنی پر رکھیں اس وقت تو دو سال کے لئے ہمیں پچاس ہزار روپیہ ماہوار مل رہا ہے اور دو سال کے بعد ہمیں تین ہزار روپیہ ماہوار